Bharat Express DD Free Dish

Indian PM Modi

وزیراعظم نے بتایا کہ بات چیت میں ہندوستان نے یو اے ای پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی، جن میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن، استحکام اور سیکیورٹی کی جلد بحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے بھارت سے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں فوری سیز فائر کی ضرورت ہے تاکہ اس علاقے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور عدم تحفظ کے ماحول کو قابو میں لایا جا سکے۔

ورون گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کا محافظ قرار دے کر واضح کیا کہ وہ پارٹی اور حکومت میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ جلد ہی انہیں پارٹی یا حکومت میں کوئی اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔

اڈیشہ کے گورنر ڈاکٹر ہری بابو کمبھم پتی اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے پیر کو نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقات کی تصاویر وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں۔

وزیر اعظم مودی کے خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام دراصل پارلیمانی جمہوریت کی ان اعلیٰ اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو بھارت کے آئینی نظام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی اصل روح یعنی مکالمہ، دلیل اور باہمی مشاورت پر یقین رکھا ہے اور یہی اصول جمہوریت کو مضبوط بناتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بات پروگریسو پنجاب انویسٹرز سمٹ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت مسلسل پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ریاست کے واجب الادا فنڈز روک کر ترقیاتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کے مطالبات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، جس سے ریاست کے زرعی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست کی سیاست میں برسوں سے ایک ہی طرز کی حکومتیں آتی رہی ہیں۔ پہلے کانگریس کی حکومت رہی، اس کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا اور اب آل انڈیا ترنمول کانگریس برسراقتدار ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ان تمام ادوار میں ترقی کی رفتار متاثر ہوئی اور ریاست بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں پیچھے رہ گئی۔

امریکی دائیں بازو کی سرگرم کارکن اور ٹرمپ کی حامی لورا لومر نے اسٹیج سے ٹرمپ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا، ”میں نے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ بھارت کے لوگوں کو بتائیں کہ میں بھارت سے محبت کرتا ہوں، مجھے مودی سے محبت ہے اور میں بھارتی عوام کا بے حد احترام کرتا ہوں“۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں مبینہ طور پر ”مہاجنگل راج“ قائم کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں قانون کی حکمرانی بحال ہوگی اور جو بھی قانون توڑے گا یا ظلم کرے گا اسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔