Bharat Express DD Free Dish

Indian PM Modi

متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی اور انہیں گجرات کے مشہور ”کیسر آم“ بطور خاص تحفہ پیش کیے۔ وزیر اعظم کے اس اقدام کو نہ صرف سفارتی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے گجرات کے آم پیدا کرنے والے کسانوں اور باغبانوں میں بھی خوشی اور امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نورڈک ممالک کے رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گرین ٹیکنالوجی، اختراعات اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ سپلائی چین، تحقیق، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں بھی نئی مضبوطی پیدا ہوگی۔

وزیر اعظم مودی کا حالیہ پانچ ممالک کا غیر ملکی دورہ صرف سفارتی معاہدوں، اسٹریٹجک شراکت داری اور عالمی تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ اپنی منفرد ’گفٹ ڈپلومیسی‘ کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔ اس دورے میں وزیر اعظم مودی نے عالمی رہنماؤں کو ایسے تحائف پیش کیے جن میں ہندوستان کی تہذیب، فنون، روایتی دستکاری، زرعی ورثہ اور ثقافتی تنوع کی جھلک نمایاں طور پر نظر آئی۔

وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو کو ہندوستان کے روایتی زرعی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے مختلف اقسام کے چاول اور ملیٹس پر مبنی صحت بخش تحائف پیش کیے، جنہیں عالمی سطح پر کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جارجیا میلونی کو دو خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں آسام کا مشہور موگا سلک اسٹال اور منی پور سے متاثر شِرُوئی للی سلک اسٹال شامل ہے۔ موگا سلک کو آسام کا ”گولڈن سلک“ کہا جاتا ہے اور یہ برہم پتر وادی کی ایک نایاب اور شاہانہ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اس سلک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی سنہری رنگ اور دیرپا مضبوطی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے پانچ ممالک کے دورے کے بعد بھارت کو 42 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں کی پیشکش ملی ہے۔ سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت (AI)، گرین انرجی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں عالمی کمپنیاں اب ‘چائنا پلس ون’ حکمتِ عملی کے تحت بھارت کو ترجیح دے رہی ہیں…

حاجی ناظم شیخ نے کہا کہ بھارت کو دنیا ایک زرعی ملک کے طور پر جانتی ہے اور جب ایسے ملک کا وزیر اعظم بیرونی ممالک کے دورے کے دوران زراعت، کسانوں اور زرعی مصنوعات کی بات کرتا ہے تو اس کا عالمی سطح پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھارتی کسانوں کے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں، جس سے دنیا میں بھارتی زرعی مصنوعات کی مانگ بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر راہل گاندھی کے متنازع بیان سے متعلق سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی حکومت والی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے راہل گاندھی کے بیان کو غیر مہذب قرار دیتے ہوئے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر لکھے جانے تک وزیر اعظم مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس ویڈیو کو 112 ملین یعنی 11.2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو نہ صرف دلچسپ قرار دیا بلکہ اسے دونوں رہنماؤں کے دوستانہ تعلقات کی ایک خوبصورت علامت بھی بتایا۔