Nepal Flash Flood:نیپال میں سیلاب کے دوران ہریانہ کی ڈاکٹرپرینکا چودھری لاپتہ،خاندان نے کی حکومت سے مددکی اپیل
ڈاکٹر پرینکا چودھری 13 اگست کو فن لینڈ سے آنے والے تقریباً 70 ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے ساتھ نیپال گئی تھیں۔ اس سفر کا پروگرام 26 اگست تک طے کیا گیا تھا اور اسی روز انہیں ہندوستان واپس آنا تھا۔ تاہم نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب میں پھنسنے کے بعد سے ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
Uttar Pradesh Muzaffarnagar News: مظفر نگر میں ڈاکٹر پر سنگین الزامات، متاثرہ لڑکی کی وائرل ویڈیو میں انصاف کی اپیل
لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس واقعے کی ویڈیو بنا لی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو ویڈیو وائرل کر دی جائے گی اور اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ متاثرہ کے مطابق، اسی ویڈیو کے ذریعے اسے تقریباً 14 ماہ تک مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا اور اس کا استحصال جاری رہا۔
Digital arrest cyber fraud: پندرہ دن میں 15 کروڑ کا صدمہ! جانئے بزرگ میاں بیوی کے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کی حیران کر دینے والی کہانی
دہلی میں سائبر ٹھگوں نے بزرگ ڈاکٹر میاں بیوی کو ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر 15 دن تک خوفزدہ کیا۔ جعلی پولیس، عدالت اور جج بن کر ان سے 14.85 کروڑ روپے کی ٹھگی کی گئی۔
Doctor shot dead by ‘teenagers’ at Delhi Hospital : دہلی کے اسپتال میں جاوید نامی ڈاکٹر کو گولیوں سے چھلنی کردیا،علاج کے بہانے ڈاکٹر کے کیبن میں پہنچے تھے دو حملہ آور
واقعہ کے بعد دہلی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزمین کی تلاش شروع کردی ہے۔ جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر کا نام جاوید بتایا جاتا ہے۔ کالندی کنج پولیس کے مطابق یہ معاملہ جیت پور میں واقع نیما اسپتال سے متعلق ہے۔ قتل کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہے۔
IMA survey says,35% of doctors feel unsafe at night shifts: قریب 35 فیصد ڈاکٹروں کو نائٹ شفٹ کرنے میں لگتا ہے ڈر،45 فیصد ڈاکٹروں کیلئے نہیں ہے ڈیوٹی روم
آئی ایم اے نے دعویٰ کیا کہ اس سروے میں 3,885 ڈاکٹروں کو شامل کیا گیا۔ جو اس موضوع پر ملک کا سب سے بڑا سروے ہے۔ اس میں 22 سے زیادہ ریاستوں کے ڈاکٹروں کا سروے کیا گیا، جن میں سے 85 فیصد 35 سال سے کم عمر کے تھے جبکہ 61 فیصد ٹرینی تھے۔
Indian doctor shot dead in America: بھارتی ڈاکٹر کو امریکہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، وجہ کر دے گی حیران
امریکہ میں ایک ڈاکٹر کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی شناخت آندھرا پردیش کے تروپتی ضلع کے ڈاکٹر رمیش بابو پیرم سیٹی کے طور پر ہوئی ہے۔




