Bharat Express DD Free Dish

India–Seychelles Relations

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:"وکٹوریہ کے پیس پارک میں مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ باپو کے نظریات نسل در نسل لوگوں کو امن، انصاف اور انسانی وقار کی جستجو میں متحد کرتے رہے ہیں۔

تقریب کے دوران سیشلز کے فوجیوں نے قومی پرچم تھامے طیاروں سے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی، جبکہ ملک بھر میں عوام نے آزادی کی 50ویں سالگرہ بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منائی۔اس تقریب میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور ماریشس کے وزیراعظم نوین چندر رام غلام بھی شریک ہوئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورۂ سیشلز کے دوران سیشلز کوسٹ گارڈ کو ’میڈ اِن انڈیا‘ فاسٹ پیٹرول ویسل ’لیسپوار‘ سمیت کئی گاڑیاں سونپیں۔ وزیر اعظم مودی نے اسے دونوں ممالک کے درمیان سمندری سلامتی اور دفاعی تعاون میں مضبوط شراکت داری کا ایک نیا باب قرار دیا۔

سیشلز کے 50ویں یومِ آزادی (گولڈن جوبلی) کے موقع پر منعقد ہونے والی قومی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ اس تاریخی پریڈ میں کیپٹن آریان ایچ. دیولکر کی قیادت میں بھارتی فوج کی آسام رجمنٹ اور بھارتی بحریہ کا دستہ بھی حصہ لے گا۔

سیشلز کے دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بحرِ ہند کو’مواقع کا سمندر‘ بنانے کا وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بحرِ ہند کے خطے کے تمام ممالک کے لیے یکساں ترقی، سمندری سلامتی اور بلیو اکانومی پر مبنی باہمی تعاون کا حامی ہے۔

وزیر اعظم مودی ہفتہ کی دوپہر سیشلز پہنچے۔ وہ ملک کے قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور دوستی کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر ہفتہ کے روز جزیرہ نما ملک سیشلز پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمینی نے ان کا استقبال کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی 27 سے 29 جون تک سیشلز کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم سیشلز کی قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم مودی اور جمہوریہ سیشلز کے صدر ڈاکٹر پیٹرک ہرمنی کے درمیان پیر کو نئی دہلی میں ایک اہم اور جامع ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے نہایت معنی خیز قرار دیا گیا۔