Bharat Express DD Free Dish

India renewable energy

گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے۔

نئی دہلی: بھارت کی کل نصب شدہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی صلاحیت 31 اکتوبر تک بڑھ کر 250.64 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ حصہ سولر انرجی کا ہے۔ اس کی تفصیلات مرکزی حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیں۔ سولر، ونڈ اور بایوماس میں نمایاں اضافہ نئے …

ہندوستان کی صاف ستھری توانائی کی تاریخی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ہندوستان نے رواں مالی سال میں 31.25 گیگاواٹ غیرروایتی ایندھن کی صلاحیت کا اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس میں 24.28 گیگاواٹ شمسی توانائی شامل ہے ۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹوں جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ پُرامید ہیں کہ بھارت 2030 تک 500 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کے ہدف کو حاصل کر لے گا۔

ریکارڈ سطح کی سرگرمی، مگر نئے حکومتی ضوابط سے آئندہ برسوں میں گرین اوپن ایکسیس منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ۔ سال 2024 میں بھارت نے کلین پاور آکشنز میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا، جہاں 59 گیگاواٹ (AC) صلاحیت کے منصوبے الاٹ کیے گئے — جو پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔

ہندوستان کی یہ پیش رفت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ جیسے جیسے دنیا ماحولیاتی بحران کے حل کی تلاش میں ہے، ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے بھی راہ دکھانے والا ملک بن چکا ہے۔