نئی دہلی: بھارت کی کل نصب شدہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) کی صلاحیت 31 اکتوبر تک بڑھ کر 250.64 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ حصہ سولر انرجی کا ہے۔ اس کی تفصیلات مرکزی حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں پیش کیں۔
سولر، ونڈ اور بایوماس میں نمایاں اضافہ
نئے اور قابل تجدید توانائی کے وزیرِ مملکت شریپاد ییسو نائک نے لوک سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ: سولر انرجی کی صلاحیت مارچ 2014 میں 2.82 گیگاواٹ سے بڑھ کر 129.92 گیگاواٹ ہو گئی۔ ونڈ انرجی کی صلاحیت 21.04 گیگاواٹ سے بڑھ کر 53.60 گیگاواٹ ہو گئی۔ بایوماس انرجی کی صلاحیت 8.18 گیگاواٹ سے بڑھ کر 11.61 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
گیارہ سال میں 4500 فیصد سے زیادہ ترقی
وزیر کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں عالمی سطح پر تیز رفتار ترقی میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں سولر انرجی کی صلاحیت 2.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر تقریباً 130 گیگاواٹ ہو چکی ہے، جو 4500 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ 2022 سے 2024 کے درمیان بھارت نے عالمی سولر توانائی میں 46 گیگاواٹ کا اضافہ کیا اور دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سولر توانائی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔
غیر فوسل انرجی میں رواں مالی سال اضافہ ریکارڈ سطح پر
رواں مالی سال میں بھارت میں غیر فوسل انرجی کی مجموعی صلاحیت میں 31.25 گیگاواٹ کا ریکارڈ اضافہ ہوا، جس میں سے 24.28 گیگاواٹ سولر انرجی شامل ہے۔
2025 سے 2030 تک بڑی تبدیلی کی توقع
رپورٹس کے مطابق ملک کی بجلی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کی حصے داری 2024-25 میں 22.1 فیصد سےبڑھ کر 2030 تک 35 فیصد سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔ اس دوران بھارت کی توانائی صلاحیت میں مزید 200 گیگاواٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ICRA کی رپورٹ: شعبے کا مستقبل ’’مستحکم‘‘
ریٹنگ ایجنسی ICRA نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کا مستقبل متعدد عوامل پر منحصر ہے، جن میں شامل ہیں: موجودہ پروجیکٹس کی بروقت تکمیل۔ پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA) کا حصول۔ نئی RE پراجیکٹس کے لیے بروقت ٹینڈرنگ۔ ICRA کے مطابق مضبوط حکومتی پالیسیوں، بہتر ٹیرف مقابلہ جاتی ماحول اور کارپوریٹ و صنعتی شعبوں کی بڑھتی ہوئی پائیداری پہل کے باعث قابل تجدید توانائی کے شعبے کا مجموعی نظریہ ’’مستحکم‘‘ بنا ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

