Urdu Conclave 2026

India GDP Growth

بھارت کی اقتصادی ترقی کا جائزہ عموماً مجموعی GDP کے اعداد و شمار سے لیا جاتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس نمو کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔اپریل-جون کی کارکردگی میں پیداوار، خدمات، سرمایہ کاری اور صارفین کی طلب سمیت کئی شعبوں کا مجموعی کردار نظر آتا ہے، نہ کہ کسی ایک عارضی اضافے کا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور کاروبار کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور آنے والے وقت میں اس سمت میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیفلٹر میں ممکنہ اضافہ حقیقی ترقی پر کچھ دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن مرکزی حکومت کے سرمایہ جاتی اخراجات اور نجی سرمایہ کاری میں بہتری کے اشارے معیشت کو رفتار فراہم کریں گے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ آنے والے مرکزی بجٹ کو اس سوال کا براہِ راست جواب دینا چاہیے کہ کمپنیاں پیداوار بڑھانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کے انتظام پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے سرمایہ کاری ماحول کو ایک بڑے “بوسٹر ڈوز” کی ضرورت ہے۔

بھارت ایک نایاب گولڈی لاکس دور میں داخل ہو گیا ہے، جہاں بہت کم مہنگائی اور انتہائی تیز اقتصادی نمو کا شاندار توازن دیکھنے کو ملا ہے۔

بھارت کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی یعنی جولائی تا ستمبر کے دوران 8.2 فیصد کی شاندار جی ڈی پی ترقی ریکارڈ کی ہے۔ یہ غیر معمولی نمو بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور خدمات کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔

بھارت کی معیشت نے (جی ڈی پی) 2025-26 کی دوسری سہ ماہی میں 8.2 فیصد کی شاندار ترقی درج کی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تمام لیڈروں نے جی ڈی پی کی ترقی کو مسلسل اصلاحات اور مستحکم حکمرانی کا نتیجہ قرار دیا۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے یو بی ایس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بھارت عالمی معیشت میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھارت 2026 تک دنیا کی تیسری سب سے بڑی کنزیومر (صارف) مارکٹ اور 2028 تک تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

ماہرین معاشیات کا اندازہ ہے کہ جنوری تا مارچ 2025 کی سہ ماہی میں معیشت کی شرح نمو 6.4 فیصد سے 7.2 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ پورے مالی سال 2024-25 کے لیے جی ڈی پی کی ترقی 6.3 فیصد سے 6.4 فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے۔