Bharat Express DD Free Dish

Imtiaz Jaleel

مہاراشٹر کے ممبرا علاقے کو ’ہرے رنگ میں رنگنے‘ سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم کی نوجوان کونسلر سحر شیخ کے بیان پر شروع ہوا سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے مسلسل تنقید کے درمیان اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان وارث پٹھان کے تازہ بیان نے ملک بھر میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔

شیوسینا کے ایم ایل اے سنجے گائیکواڑ ایم ایل اے ہاسٹل کے کینٹین ملازم کے ساتھ مارپیٹ کے بعد خبروں میں ہیں۔ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اب انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم لیڈرامتیازجلیل کو مارنے کی دھمکی دے دی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما امتیاز جلیل نے سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ شہروں، عمارتوں اور سڑکوں کے نام بدل رہے ہیں۔ اب جبکہ نام بدلنے کا یہ عمل ابھی شروع ہوا ہے، آپ اپنے باپ کا نام بھی بدل لو۔ اب کیا رہ گیا ہے؟

بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے اس سلسلے میں ایک خط جاری کیا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے جاری کردہ خط میں لکھا گیا ہے، ’’بھارتیہ جنتا پارٹی مہاراشٹر ریاستی یونٹ کی درخواست پر قومی صدر جگت پرکاش نڈا کے فیصلے کے مطابق، اتحادی جماعتوں کے امیدوار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘‘

امتیاز جلیل نے کہا، "پارٹی کارکنوں نے زمین پر کام  کرنا شروع کر دیا ہے اور میں ناندیڑسے  ضمنی انتخاب لڑنا چاہتا ہوں۔ ہماری پارٹی کے سربراہ اویسی سے صورتحال کا جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔

رکن اسمبلی امتیاز جلیل کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد نے دہشت پیدا کی ہے۔ پولیس تاخیر سے موقع پر پہنچی ہے