Urdu Conclave 2026

Immigration

مارچ میں اندازاً 1 لاکھ 10 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جب کہ اس کے جواب میں "مارچ اگینسٹ فاشزم" کے عنوان سے نکالے گئے مظاہرے میں تقریباً 5 ہزار افراد نے شرکت کی۔ جوابی مظاہرے میں "پناہ گزین خوش آمدید" اور "فار رائٹ کا خاتمہ کرو" جیسے نعرے لگائے گئے۔

اس بیان نے ہندوستانی کمیونٹی اور نیوزی لینڈ کی پہلی ہندوستانی نژاد رکن پارلیمنٹ پریانکا رادھا کرشنن کی طرف سے شدید تنقید کو جنم دیاہے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ کسی ایک نسل کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اس طرح کے تبصرے ایک پوری کمیونٹی کے خلاف منفی تعصب کو تقویت دیتے ہیں۔

رپورٹ، جو ایک یورپی تھنک ٹینک سے منسوب ہے، استدلال کرتی ہے کہ میرکل کی "کھلے دروازہ" پالیسی نے یورپ کے سماجی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔ اس نے ثقافتی تناؤ، معاشی دباؤ، اور دائیں بازو کی پاپولسٹ تحریکوں کے عروج کو ہوا دی ہے۔

امیگریشن اینڈ فارنرز بل 2025 کو پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے نے کہا کہ اس کا مقصد ’’کسی کو ہندوستان آنے سے روکنا نہیں ہے۔ ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کا خیرمقمد ہے۔ لیکن انھیں امیگریشن کے قوانین پرعمل کرنا چاہیے۔ قانون کی دفعات قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں۔‘‘

یہ نیا اقدام 2026 میں شروع ہوگا اور تارکین وطن کو 350,000 سویڈش کرونر (تقریباً 28.7 لاکھ روپے) تک کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد مزید تارکین وطن کو اپنے اصل ملک میں واپس جانے کی ترغیب دینا ہے۔