Urdu Conclave 2026

HIV

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کی سہولیات سے جڑے ایچ آئی وی انفیکشن کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں پیش آنے والا بڑا ایچ آئی وی سانحہ نمایاں ہے، جہاں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سیکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے ایڈز کے سربراہ نے امریکی صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اچانک فنڈنگ ​​بند نہ کریں کیونکہ اس سے کئی افریقی ممالک میں خوف کی فضا پیدا ہو جائے گی۔

ایک بار جب کوئی شخص ایچ آئی وی سے متاثر ہو جائے تو صحت یابی ممکن نہیں رہتی لیکن ادویات کی مدد سے خطرناک مرحلے تک پہنچنے سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر ایچ آئی وی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین مرحلے 3 تک پہنچ جاتا ہے۔

سینئر عہدیدار نے کہاکہ ہم نے اب تک 828 طلبہ کو ایچ آئی وی پازیٹیو کے طور پر شناخت کیا ہے۔ جن میں سے 47 طلباء خطرناک انفیکشن کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔بہت سے طلباء ملک بھر کے ممتاز اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے تریپورہ سے باہر چلے گئے ہیں۔

اس معاملے میں اے آر ٹی سنٹر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 80 ایچ آئی وی پازیٹو خواتین میں سے کم از کم 35 متاثرہ خواتین نے بچوں کو جنم دیا ہے۔