Bharat Express DD Free Dish

Government action

وزیراعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہے اور عوام کو توانائی کی دستیابی کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ملکی مفادات کے تحفظ اور توانائی کی مسلسل فراہمی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔

حکومت کے مطابق 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے نئے رہنما اصولوں کے مطابق کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 13,479 میٹرک ٹن ایل پی جی کی سپلائی کی گئی، جبکہ سرکاری تیل کمپنیاں دیگر علاقوں میں بھی گیس کی دستیابی یقینی بنا رہی ہیں۔

مرکزی حکومت نے این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کو دوبارہ تحریر کرنے کے لیے تین رکنی ماہر کمیٹی قائم کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کی اطلاع ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے میں از خود شروع کی گئی کارروائی کو ختم کر دیا۔

ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے مختلف ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔ حکام نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔

اس صورتحال کے پیش نظر فضائی معیار کے کمیشن (CAQM) نے گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (GRAP) کے دوسرے مرحلے (Stage-2) کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، اتوار شام چار بجے دہلی کا ایئرکوالٹی انڈیکس (AQI) 296 ریکارڈ کیا گیا، جو کہ ’خراب‘ (Poor) زمرے میں آتا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کا فضائی معیار 201 سے 300 کے درمیان برقرار ہے۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وانگچک کی قیادت میں بھوک ہڑتال کے دوران مشتعل ہجوم نے لیہ میں سیاسی جماعت اور سرکاری دفتر پر حملہ کر دیا۔ ہجوم نے دفاتر کو آگ لگا دی، پولیس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس واقعے میں 30 سے زائد پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پولیس فائرنگ میں کچھ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

لینڈ سلائیڈ، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے ایک جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں واضح معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP's) طے کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔

’’میں وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور قومی سطح پر ایسے اقدامات کریں جن سے برآمدات کی مسابقت برقرار رہے اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی محفوظ ہو۔‘‘

سپریم کورٹ نے سہارا کے جمع کنندگان کو رقم کی واپسی کی مدت 31 دسمبر 2025 تک بڑھا دی ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ اور باہمی تعاون کے وزیر امت شاہ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔