Bharat Express DD Free Dish

Gaza City

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ پہلا اچھا خیال ہے جو میں نے سنا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر خیال ہے۔ میرے خیال میں اسے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے - کیونکہ یہ سب کے لیے ایک مختلف مستقبل بنائے گا۔‘‘

فلسطین کے صدر محمود عباس اور غزہ کے شہریوں نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی پیشکش کو ازسرنو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم تکلیف میں ہیں، لیکن یہودیوں کے لئے ہم اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج کو واپس بلا لے گا۔

غزہ کی عوام نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کو لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ امداد کو بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں پر فروخت ہونے سے روکا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ’ابن الہیثم‘ اسکول کے نام سے مشہور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے بڑے پیمانے پر چھاپوں سے مرنے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی محاصرہ چھٹے روز میں داخل ہو گیا، جس سے فلسطینیوں کو خوراک، پانی، بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔

فلسطینی سیکورٹی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے دیر البلاح شہر کے مشرق میں المنفالوتی اسکول کے قریب میزائل سے حملہ کیا۔ اس دوران، اسرائیل کی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے نیٹزارم راہداری میں درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور سینکڑوں انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔

مصری سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی وفود نے قاہرہ میں ملاقاتوں کا نیا دور شروع کیا، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو ختم کرنا اور جنگ بندی کی تجویز پر اختلافات کو دور کرنا ہے۔