Bharat Express DD Free Dish

g7 summit

وزیراعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ بھارت جی-7 سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور آؤٹ ریچ عمل میں یہ اس کی 13ویں شرکت ہے۔

جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

روایتی گروپ فوٹو سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جی-7 اجلاس کے مقام پر وزیراعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم مودی فرانسیسی صدر کی خصوصی دعوت پر اس اہم عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے ہیں۔ بھارت اس مرتبہ 13ویں بار شراکت دار ملک کے طور پر جی-7 اجلاس میں شرکت کر رہا ہے، جبکہ وزیراعظم مودی مسلسل ساتویں مرتبہ اس عالمی فورم کا حصہ بنے ہیں۔

یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق روس کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو کبھی معمول کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے امن اور خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

جنیوا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کو (مقامی وقت کے مطابق) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے، جہاں سے وہ فرانس کے تفریحی مقام ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فرانس 15 سے 17 جون تک 52ویں جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ بھارت اس مرتبہ شراکت دار …

وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں سلوواکیہ کی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی اور پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ تاریخی اور نتیجہ خیز دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور مضبوط تجارتی روابط خاص طور پر نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

جی 7 اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم مودی کئی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2005 سے 2013 کے درمیان مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے جی-7 اجلاس میں مجموعی طور پر پانچ بار بھارت کی نمائندگی کی تھی۔ ایک طویل عرصے تک یہ ریکارڈ ان کے نام رہا، لیکن اب وزیراعظم نریندر مودی نے چھٹی مرتبہ شرکت کرکے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ بھارت اور فرانس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سال 2026 کو "ایئر آف انوویشن" کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے،

پی ایم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں اہم ہو گیا ہے جب پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ میں ہیں۔ منیر بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں لنچ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ پی ایم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بین الاقوامی برادری پائیدار مستقبل کے لیے سنجیدہ ہے تو دنیا کے لیے گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور خدشات کو سمجھنا ضروری ہے۔