Bharat Express DD Free Dish

Fight Against Naxalism

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں نکسل واد پر جاری بحث کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کی حکومت ہے اور جو بھی ہتھیار اٹھائے گا، اس کا حساب ضرور ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی کے باعث نکسل واد سے متاثرہ علاقوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک سے نکسل ازم کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ 31 مارچ تک اس مسئلے کو پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔

مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کی سرحد سے متصل گڈچرولی کے گھنے جنگلات میں سیکیورٹی فورسز اور ماؤ نوازوں کے درمیان ایک بڑی تصادم سامنے آئی ہے۔ گڈچرولی–نارائن پور سرحد پر واقع ابوجھماڑ کے جنگلات میں چلائے گئے ایک وسیع آپریشن کے دوران تین ماؤ نواز مارے گئے ہیں۔

چھتیس گڑھ کے بستر خطے میں ماؤ وادیوں کے خلاف جاری مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ضلع دنتے واڑہ میں 36 انعامی ماؤ وادیوں سمیت مجموعی طور پر 63 ماؤ وادیوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کی مرکزی دھارا میں واپس آنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط قیادت اور مرکز و ریاست کے باہمی تال میل کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو یہ دعویٰ کیا کہ چھتیس گڑھ کے ابوجھماڑ اور شمالی بستر، جو کبھی نکسل کے گڑھ سمجھے جاتے تھے، اب وہ علاقہ پوری طرح نکسل فری قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ 2026 تک پورے ملک سے نکسل ازم کا خاتمہ ہو جائے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ان افسروں سے ملاقات کی ہے، جنھوں نے ملک بھر میں نکسلزم کے خلاف حالیہ کامیاب آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اکیس دن جاری رہنے والے اس آپریشن میں 31 ماؤنواز مارے گئے، جن میں 15 خواتین شامل تھیں۔ ان میں سے 28 کی شناخت ہو چکی ہے، جن کے سروں پر مجموعی طور پر 1.72 کروڑ روپے کے انعامات تھے۔