Bharat Express DD Free Dish

Fakhar Zaman

آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ٹیم کے تجربہ کار بلے باز فخر زمان اور نوجوان اوپنر صائم ایوب انجری کی وجہ سے سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔

ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کو سونپی گئی ہے۔ ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ٹیم مینجمنٹ نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ صاحبزادہ فرحان کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ میں دو سنچریاں اسکور کر کے شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کا سفر اختتام کو پہنچ گیا۔ پلے کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں سری لنکا کے خلاف 5 رنز سے سنسنی خیز فتح حاصل کرنے کے باوجود پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا، جبکہ نیوزی لینڈ نے آخری چار ٹیموں میں اپنی جگہ بنا لی۔

پاکستان نے سیریز کے پہلے میچ میں 22 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی، اس کے بعد دوسرے مقابلے میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرایا۔ ایسے میں مہمان ٹیم کو سیریز کے آخری میچ میں عزت بچانے کے لیے جیت درکار تھی، لیکن وہ اس میں ناکام رہی۔

پاکستان کے اوپنر فخر زمان چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے تھے لیکن اب رپورٹس کے مطابق وہ ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 34 سالہ فخر نے اب ریٹائرمنٹ لینے کا ذہن بنا لیا ہے۔

امام الحق پاکستان شاہین اسکواڈ کا حصہ تھے جس نے چیمپئنز ٹرافی سے قبل دو پریکٹس میچ کھیلے تھے۔ فخر نے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں لندن میں فائنل میں بھارت کے خلاف میچ جیتنے والے 114 رنز بنا کر نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا باہر ہونا پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

شان مسعود کی کپتانی میں ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی حالت انتہائی خراب ہے۔ حالانکہ، خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس کپتان کا بلہ اچھا چل رہا ہے اس لیے ان پر فی الحال سوالات نہیں اٹھائے جا رہے۔

پارلیمنٹ میں جے ڈی یو کی طرف سے دی گئی حمایت کے بارے میں زماں خان نے کہا، ’’جے ڈی یو لیڈروں نے صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، یہ حمایت نہیں ہے۔ اگر یہ فیصلہ حتمی فیصلہ ہوتا تو ہمارے لیڈران نے کمیٹی نہیں بنائی ہوتی۔ ہمارے لیڈران اقلیتی برادری کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک محض چارہی ایسے طوفانی بلے باز ہوئے ہیں، جنہوں نے محض ایک میچ میں 10 سے زیادہ چھکے لگائے ہیں۔

402 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پہلی وکٹ دوسرے ہی اوور میں عبداللہ شفیق کی صورت میں گری جو 4 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔