Bharat Express DD Free Dish

Entertainment

فلم 'دی انڈیا اسٹوری: سلو پوائزن' زرعی ادویات کے بے دریغ استعمال اور خوراک میں ملاوٹ جیسے سنگین مسائل پر مبنی ہے۔ فلم یہ پیغام دینے کی کوشش کرتی ہے کہ جدید زراعت میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کس طرح خاموشی سے انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔

اکشے کمار کے مطابق کامیڈی ایک وسیع اور گہرے سمندر کی مانند ہے۔ جتنا انسان اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔

گانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے موہت چوہان نے کہا کہ اس گیت کی سب سے خاص بات اس کی پراسراریت ہے۔ یہ سب کچھ ایک ہی بار میں بیان نہیں کرتا بلکہ آہستہ آہستہ جذبات کی مختلف پرتیں کھولتا ہے۔ اس میں تجسس اور حساسیت کا ایک منفرد امتزاج ہے،

معروف اداکار جمیل خان نے کہا کہ ایک فنکار کی آواز، توانائی اور ذہنی توازن بھی بہترین اداکاری کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، اسی لیے پوری ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فنکار پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

"ساجن گھر" کی شوٹنگ کے دوران اُججول مسلسل سنجیتا کو ذہنی اذیت پہنچاتے تھے۔ اندراکشی کے مطابق، سنجیتا نے اس رویے کی شکایت بھی کی تھی، لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی تو انہوں نے شو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

سنچیتا اُگلے نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد مقبول ٹی وی سیریلز میں کام کیا، جن میں "ساجن گھر"، "کم کم بھاگیہ"، "واگلے کی دنیا" اور "دل والی دلہنیا لے جائے گی" شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ  ہے کہ  انہیں سب سے زیادہ شہرت "کم کم بھاگیہ" میں دیا ٹنڈن کے کردار سے ملی، جس نے ان کے اداکاری کے سفر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا،

وکرم بھٹ نے اپنی بات کو فلمی انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر فلم ساز اور ناظر کو ایسی کہانیاں پسند ہوتی ہیں جن میں ناانصافی کا جواب دیا جاتا ہے اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ایک فلم میکر کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہر کوئی ایسی کہانی پسند کرتا ہے جس میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف جواب دیا جائے۔ ‘‘

اداکارہ نے کہا کہ ڈیلی سوپ کی شوٹنگ کا شیڈول انتہائی مصروف ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فنکار اپنے گھر سے زیادہ وقت سیٹ پر گزارتے ہیں۔ صبح سے رات گئے تک شوٹنگ جاری رہتی ہے اور اکثر اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی کم ملتا ہے۔

فلم سازی کے ساتھ ساتھ پہلاج نہلانی نے بھارتی سنسر بورڈ کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 2015 سے 2017 تک اپنے دورِ صدارت میں وہ سخت سینسر پالیسیوں کے باعث مسلسل خبروں میں رہے۔ ان کے دور میں کئی فلموں کے مناظر اور مواد پر اعتراضات کیے گئے ،

اسی فلم کا ٹائٹل گیت ایک مختلف مگر نہایت دردناک سماجی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی غریب بیٹی کی کہانی بیان کرتا ہے جو امیر سسرال میں مسلسل طعنے، توہین اور نظراندازی کے بعد اپنے میکے واپس آنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ گیت کے بول سماج کے تلخ رویوں کی عکاسی کرتے ہیں: