Bharat Express DD Free Dish

encounter in kashmir

جموں و کشمیر کے کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج نے دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور فوج نے پورے سیکٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیموں نے یہ آپریشن  شروع کیا۔ حکام کے مطابق علاقے کے گھنے جنگلوں میں چھپے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔

سیکورٹی فورسز کی ٹیم ابھی بھی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ یہ سیاح راجستھان سے آئے تھے۔ یہ ایک سیاحتی علاقہ ہے اور گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں، اس لیے لوگ آہستہ آہستہ اس علاقے کی سیر کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اب تک کے اس تصادم میں پانچ ملیٹنٹوں کو ہلاک کرنے میں سیکورٹی فورسز کامیاب ہوچکی ہے ،البتہ اس دوران دو اہلکار کے بھی زخمی ہونے کی خبر ہے۔ فی الحال انکاونٹر جاری ہے چونکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ ایک یا دو مزید دہشت گرد ابھی اس علاقے میں چھپے ہوئے ہیں ۔

جموں و کشمیر بی جے پی کے میڈیا کنوینر ساجد یوسف شاہ نے کہا، میں نذیر احمد اور کلدیپ کمار کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں، جنہیں کشتواڑ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں نے اغوا کر کے ہلاک کر دیاہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مرحوم کی روح کو سکون ملے۔

یوٹی میں آنے والے دنوں میں اہم پروگراموں کے پیش نظر وادی کشمیر میں پاکستان کی ناپاک سازش کو ناکام بنانے کے لیے "یہ آپریشن بہت اہم اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایک شاندار کامیابی ہے"۔ تقریباً دس سال بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے مہم جاری ہے۔

ہندوستان میں مسلسل پاکستان لشکرطیبہ کے دہشت گردوں کے ذریعہ دہشت پھیلانے کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کا کئی بارتصادم بھی ہوا ہے۔

پچھلے سال ہی ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ بڑی تعداد میں دہشت گرد سرحد پار سے دراندازی کرنے والے ہیں۔ فوج نے بہت سے دہشت گردوں کو داخل ہونے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی لیکن پھر بھی کچھ دہشت گرد جنگلات کے ذریعے وادی میں ضرور پہنچے اور اب اپنے مقامی نیٹ ورک کی مدد سے حملے کر رہے ہیں۔

ایک افسر نے بتایا سپاہی فرار ہونے والے دہشت گردوں کا پیچھا کر رہے تھے۔ کینٹ اس میں سب سے آگے تھا۔ وہاں سے ایک گولی چلی تو وہ سپاہی کو بچانے کے لیے آگے آیا۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ اس علاقے میں کتنے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ اس تصادم میں پولیس اور فوج دونوں شامل ہیں۔