Bharat Express DD Free Dish

Employment

دہلی کے پرگتی میدان میں ’نویوگ کھادی فیشن شو‘ کا انعقاد کیا گیا۔ کے وی آئی سی کے چیئرمین منوج کمار نے کھادی کو ’قومی جذبے اور جدید طرزِ زندگی‘ کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے گزشتہ 11 برسوں میں 2 کروڑ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔

ترقی یافتہ بھارت 2047 کے وژن کے تحت جموں و کشمیر کی معاشی ترقی کو رفتار دینے کے لیے ریاست کے پہلے چونا-پتھر بلاک کی نیلامی پیر سے جموں میں شروع ہو رہی ہے۔ اس کا اعلان وزارتِ خزانہ و کان نے اتوار کو کیا۔ وزارت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ روزگار کے وسیع امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ بدھ، 19 نومبر 2025 کو جاری ’’روزگار دو، سماجی انصاف دو‘‘ پدیاترا کے آٹھویں روز کی قیادت کریں گے۔ یہ پدیاترا صبح 10 بجے امیٹھی کے تری شُنڈی سے روانہ ہوگی اور طے شدہ شیڈول کے مطابق شام 5 بجے پرتاپ گڑھ کے سدر بازار پہنچے گی۔

اس مشن کے تحت مختلف شعبوں جیسے  تعمیرات، آئی ٹی، صحت کی دیکھ بھال، ہاسپٹلٹی اور مینوفیکچرنگ جیسے مختلف شعبوں میں تربیت دی  جاتی ہے۔ تربیت کے بعد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جاتا ہے،جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے۔

حکومت MSMEs کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے، خود انحصاری بڑھانے اور عالمی مسابقت میں حصہ لینے کے قابل بنانے پر زور دے رہی ہے۔

لیبر منسٹری کی جانب سے پیر کو جاری کردہ پے رول ڈیٹا کے مطابق ادارے میں 20 لاکھ نئے نیٹ ممبران کا اندراج ہوا، جن میں 9.42 لاکھ نئے ملازمین شامل ہیں۔

مرکزی وزیراطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جب کہ دہلی-این سی آر، بنگلورو اور ممبئی جیسے روایتی ٹیک ہبس اپنا تسلط برقرار رکھے ہوئے ہیں، اندور، جے پور، لکھنؤ، راجکوٹ اور ورنگل جیسے شہر تیزی سے ٹیک ہائرنگ لینڈ اسکیپ میں بڑے کھلاڑیوں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

فاؤنڈیٹ کی  وی پی- مارکیٹنگ، انوپما بھیم راجکا نے کہا، "ہندوستانی جاب مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جو خواتین کے لیے خاص طور پر اعلیٰ ترقی کی صنعتوں اور ٹیکنالوجی سے متعلقہ کرداروں میں مزید مواقع پیدا کر رہی ہے۔"

یکم دسمبر 2024 تک تقریباً 30.4 کروڑ غیر منظم کارکنوں نے ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کرایا ہے۔ محنت اور روزگار کی وزارت نے 26 اگست 2021 کو آدھار کے ساتھ غیر منظم کارکنوں (این ڈی یو ڈبلیو) کا ایک جامع قومی ڈیٹا بیس بنانے کے لیے پورٹل کا آغاز کیا