Bharat Express DD Free Dish

Economic Development

سال2024 میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی متنوع رہی، جہاں ہائی نیٹ ورتھ افراد، فیملی آفسز، اور نجی ہوٹل مالکان نے 51 فیصد لین دین کا حصہ ڈالا۔ اس کے علاوہ، گرین فیلڈ پروجیکٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔

اس پلیٹ فارم کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ چیلنجز بھی ہیں، جیسے کہ ڈیجیٹل خواندگی کی کمی اور علاقائی تنوع کو مربوط کرنے کی ضرورت۔ اس کے باوجود، ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی تخلیقی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ رجحانات جاری رہے تو صارفین اور خوردہ شعبے میں مزید استحکام اور سرمایہ کاری دیکھی جا سکتی ہے۔ گرانٹ تھورنٹن بھارت کے پارٹنر نوین مالپانی کا کہنا ہے کہ کاروبار اپنی ڈیجیٹل چستی اور صارفین سے مضبوط رابطے کی وجہ سے لچک دکھا رہے ہیں۔

ایپل کو بھارت میں کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جیسے کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی اور پیچیدہ ریگولیٹری عمل۔ اس کے باوجود، کمپنی اپنی سرمایہ کاری کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ بھارت کو عالمی ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں، ای پی ایف او نے اپنے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور کلیم سیٹلمنٹ کے عمل کو تیز کرنے پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔ اسی سلسلے میں، آٹو سیٹلمنٹ کی حد کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ممبروں کو ایمرجنسی حالات میں اپنے فنڈز تک فوری رسائی مل سکے۔

اگرچہ بھارت مقامی ترقی پر زور دے رہا ہے، لیکن بہت سے مینوفیکچررز اب بھی انجن، الیکٹرانکس، اور ایئر فریم جیسے اہم پرزوں کے لیے غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اسے تبدیل کرنے کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ترسیلات زر بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو درآمدات، خاص طور پر تیل، کے لیے ضروری ہیں۔ یہ ذخائر 2024 میں 600 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو معاشی استحکام کی علامت ہے۔

بھارت کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 2023-24 میں 9.2 فیصد رہی، جو گزشتہ 12 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، سوائے مالی سال 2022 کے (9.7 فیصد) جو آزادی کے بعد سب سے زیادہ تھی۔

آئندہ برسوں میں، بھارت کا ہدف 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے تحت بچوں کی شرح اموات کو مزید کم کرنا اور آٹوموبائل سیکٹر کو عالمی سطح پر سرفہرست بنانا ہے۔

مڈل کلاس کی بڑھتی ہوئی قوت خرید: جیسے جیسے ہندوستانیوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے، گاڑیوں کی ملکیت اب عیش و عشرت سے زیادہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ شہری کاری اور بہتر سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔