Bharat Express DD Free Dish

Economic Development

میک ان انڈیا اور سوادیشی تحریک عالمی معاشی چیلنجوں، خاص طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کم کرنے کے تناظر میں اہم ہیں۔ مودی نے زور دیا کہ اگر بھارت 2047 تک عالمی معیشت میں تیسرے نمبر پر آنا چاہتا ہے تو غیر ملکی اشیا کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔

یہ ماڈیولز نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی ترقی کے لیے بھی اہم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ طلبہ کو اپنی ثقافت، ماحولیاتی تحفظ، اور جمہوری اقدار سے جوڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کھیلوں سے متعلق ماڈیول طلبہ کو جسمانی سرگرمیوں اور ٹیم ورک کی اہمیت سکھاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق  میک ان انڈیا وکست بھارت کے وژن کا ایک اہم جزو ہے، جو بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم مودی نے واضح کیا کہ یہ ہدف صرف حکومتی کوششوں سے نہیں بلکہ عوامی شراکت (سب کا پرایاس) سے حاصل ہوگا۔

گزشتہ سال غربت میں کمی بھارت کی معاشی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ تاہم، اسے برقرار رکھنے کے لیے معاشی ترقی کو سماجی انصاف اور ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ بھارت کی یہ کامیابی عالمی سطح پر بھی سراہی جا رہی ہے۔

آپریشن سے پہلے بھارت نے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو یقینی بنایا۔ اس سے بھارت کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا اور اسے ایک ذمہ دار اور طاقتور قوم کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ آپریشن بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جسے مضمون "مودی ڈاکٹرائن" کا نام دیتا ہے۔ اس نظریے کے تحت، بھارت اب محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات کرے گا۔ آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے دشمنوں کو ان کی سرزمین پر ہی چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپریشن سندور نے ہندوستان کی فوجی اور سفارتی طاقت کا مظاہرہ کیا، جسے وزیراعظم مودی نے "نیا معیار" قرار دیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہندوستان اب دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل انداز میں کارروائی کرے گا۔

آپریشن سندور کو وزیراعظم مودی نے خود نام دیا تھا، جو پہلگام حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے سیاحوں سے ان کا مذہب پوچھا اور پھر انہیں ان کے اہل خانہ کے سامنے گولی مار دی۔ اس واقعے نے پورے ہندوستان میں غم اور غصے کی لہر دوڑا دی۔

بنیادی ڈھانچے میں 500 فیصد بجٹ اضافے سے قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک 2014 میں 91,287 کلومیٹر سے 2023 تک 1,46,145 کلومیٹر تک بڑھا۔ پی ایم گتی شکتی نے ریلوے، سڑکوں، اور بندرگاہوں کے لیے ملٹی موڈل رابطوں کو بہتر بنایا۔ 136 وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں۔

ای-گورننس کے باوجود کئی چیلنجز ہیں۔ دیہی-شہری ڈیجیٹل تقسیم ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی محدود ہے۔ کم ڈیجیٹل خواندگی، خاص طور پر غیر ماہر صارفین میں، ای-گورننس کی قبولیت کو متاثر کرتی ہے۔