Bharat Express DD Free Dish

Economic Development

الیکٹرولائزرز گرین ہائیڈروجن کی پیداوار میں ضروری اجزاء ہیں، جو ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ کاندلا میں سائٹ کا کام مکمل ہونے کے ساتھ، ان الیکٹرولائزرز کی سائٹ پر اسمبلی جلد شروع ہوگی۔

بل گیٹس نے بتایا کہ بھارت کے حل عالمی صحت اور ترقی کو تبدیل کر رہے ہیں۔نئی دہلی کے پی ایم سنگھرالایہ، تین مورتی میں منعقدہ اس تقریب میں اپنے کلیدی خطاب میں گیٹس نے کہاکہ بھارت  صرف اپنے لیے ترقی نہیں کر رہا۔

تقریب میں اپنے کلیدی خطاب میں گیٹس نے کہاکہ بھارت  صرف اپنے لیے ترقی نہیں کر رہا، بلکہ وہ ایسے حل تخلیق کر رہا ہے جو عالمی صحت اور ترقی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آر بی آئی کے عملے نے مشاہدہ کیا کہ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور محصولات کے دائرہ کار، وقت، اور شدت کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کی لچک کا امتحان لے رہی ہے۔

ایپل ان کمپنیوں کے ساتھ اپنی سپلائی چین کے لیے پرزوں اور اجزاء کی فراہمی کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے۔دیگر بھارتی کمپنیاں جو پہلے ہی شامل ہو چکی ہیں یا شامل ہونے کے عمل میں ہیں ان میں ٹاٹا گروپ، مدرسن گروپ، ایکس اور بھارت فورج شامل ہیں۔

پرمود کمار، سی ای او بارکلیز بینک پی ایل سی اور ہیڈ آف انویسٹمنٹ بینکنگ انڈیا نے کہاکہ یہ اضافی سرمایہ ہمیں اپنے کلائنٹس کے لیے ایک قابل اعتماد مالیاتی شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

فروری کے شروع میں، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کر کے 6.25 فیصد کر دیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا، "آئندہ مہینوں میں خوراک کی قیمتوں کی حرکیات سرخی افراط زر کی شرح کو 2025 کے آخر تک 4 فیصد تک کم کرنے میں مدد دیں گی۔

شکتی کانت داس نے کہا کہ بہت سے ممالک میں مہنگائی نے اپنی جڑیں پکڑ لی ہیں لیکن یہاں مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی شرح سود 4 فیصد پر رکھی تو ہماری ریکوری بہت آسان ہوگئی۔ داس نے کہا کہ ملک کو خدمات کے شعبے اور دیگر میں ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

لِنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہیں حال ہی میں دو بصیرت افروزتحقیقی مطالعات دیکھنے کا موقع ملا، جو بھارت کی معیشت کے بارے میں تمام پُرجوش لوگوں میں یقینی طورپردلچسپی پیدا کریں گے: ایک مطالعہ ایس بی آئی ریسرچ سے ہے جبکہ دوسرا مطالعہ صحافی انیل پدمنابھن کا ہے۔

اقتصادی سروے 23-2022 کے مطابق، ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جبکہ 47 فیصد آبادی کے ذریعۂ معاش کا  انحصار زراعت پر ہے۔ زراعت، پابندی والی ایک سرگرمی ہے، جس کےدوران  پیداوار اور پیداوار کو زیادہ سے زیادہ مقدارمیں  حاصل کرنے کے لیے، صحیح وقت پر درست زرعی سازوسامان و اشیاءکی ضرورت پڑتی  ہے۔