Bharat Express DD Free Dish

Dr. Rajeshwar Singh

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے واضح کیا کہ ان کا پختہ عزم ہے کہ سماج کے آخری پائیدان پر کھڑا فرد بھی شدید سردی میں خود کو اکیلا یا بے سہارا محسوس نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی دکھاوا ہے اور بھارت کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی عدالتی کارروائی اور خود مختاری کا احترام ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اسمبلی اسپیکر کے تئیں اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی سطح پر بھی ستیش مہانا کی رہنمائی اور دعائیں ہمیشہ حوصلہ افزا رہی ہیں۔ ان کے الفاظ تجربے، حساسیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے احساس سے لبریز ہوتے ہیں، جو عوامی خدمت اور جمہوری اقدار کے تئیں وابستگی کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

بھارت وکاس پریشد، اودھ صوبے کی جانب سے آر ایس ایس کی صدی سالگرہ کی تحریک سے منعقدہ پانچ روزہ پانچ نکاتی کہانی میلہ کا آغاز کرشنا نگر میں واقع سومت ناتھ سیوا بھون میں مذہبی اور ثقافتی جوش و خروش کے ساتھ ہوا۔

ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے بعد میں اپنے استقبال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ اس میں واضح طور پردکھائی دے رہے ہے کہ لوگ اان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کررہے  ہیں اور انہیں ہار پہنارہے ہیں۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا ’’یہ صرف مذہب یا خوراک کا مسئلہ نہیں، بلکہ رحم اور تہذیب کا امتحان ہے۔ اگر یوپی AI-پر مبنی Humane Monitoring System کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے جوڑے، تو یہ دنیا میں پہلا ماڈل بنے گا جہاں گورننس، حساسیت اور ٹیکنالوجی ایک ساتھ کام کریں گے۔‘‘

ڈاکٹر سنگھ نے کہا، یوگی کی قیادت میں، اتر پردیش نے گڈ گورننس، خواتین کی حفاظت اور سماجی اصلاحات کے شعبوں میں نئی ​​تاریخ رقم کی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ آبادی کے توازن کے شعبے میں بھی 'اتر پردیش ماڈل' قائم کیا جائے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ریاستی فلاحی فنڈ کے قیام کی سفارش کی اور سروجنی نگر میں زیر التوا ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے کر عوامی بہبود کے اقدامات کو تیز کرنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا:"مودی، یوگی اور کھنّہ جی کا مشترکہ وژن ہے کہ 'انسپکٹر راج' اور 'لائسنس راج' ختم ہوں اور ملک 'پورٹل راج' کی طرف بڑھے، جہاں ہر تاجر کو Self Declaration کا احترام ملے۔"

راجیشور سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمیں صرف ہتھیاروں کی طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے پیچھے جو روحانی، تہذیبی اور اخلاقی اصول کارفرما ہیں، ان کو سمجھنا اور اپنانا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی روایات سے جڑے رہیں اور سماجی انصاف و قومی خودداری کے لیے آگے آئیں۔