Bharat Express DD Free Dish

diplomatic meeting

بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی، سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی خریداری کے مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا ہے۔

مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ اور نمائندوں کے ساتھ برکس کے سرکاری ’’فیملی فوٹو‘‘ سیشن میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کے نمائندے ایک ساتھ نظر آئے، جسے سفارتی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔  بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔

نیٹو کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ مغربی ممالک کے اجتماعی دفاع کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے باہمی دفاعی اصول کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد تمام ممالک اس کے دفاع کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی مودی کا جاپان کا دورہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بلیٹ ٹرین منصوبہ نہ صرف بھارت کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ ایشیا میں بھارت-جاپان شراکت کو بھی مستحکم کرے گا۔

دونوں رہنماؤں نے بھارت اور فن لینڈ کے دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کوانٹم ٹیکنالوجی، 6G، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور پائیداری میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔