Bharat Express DD Free Dish

Delhi Building Collapse

دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی، 33 جائیدادوں کو منہدم کیا گیا، 5 کو سیل اور 29 معاملات میں وجہ بتاؤ نوٹس بھی  جاری کیا گیا۔

پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران سدھانشو نے بتایا کہ مزدور نے اسے فون پر کہا تھا کہ تعمیراتی کام کی وجہ سے عمارت کی بنیاد کمزور ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں دیوار گرنے کا خطرہ ہے۔ سدھانشو نے دعویٰ کیا کہ عمارت اضافی بوجھ برداشت کرنے کی حالت میں نہیں تھی۔

دہلی میں غیر مجاز اور تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے جا رہے تعمیراتی کاموں کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے اپنی کارروائی تیز کر دی ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن نے جمعہ کو دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بیک وقت کارروائی کی۔ اس دوران خطرناک عمارتوں، غیر قانونی تعمیرات اور دہلی کے ماسٹر پلان اور عمارتوں سے متعلق ذیلی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔

دہلی حکومت نے PWD کے لیے الگ انجینئرنگ کیڈر بنانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے کیڈر سے راجدھانی میں ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کو رفتار ملے گی اور انجینئرنگ افسران کی جواب دہی بھی زیادہ مؤثر انداز میں طے کی جا سکے گی۔

ستیّہ نکیتن حادثے پر سوال اٹھاتے ہوئے سورَو داس نے کہا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟ چھتیں کیسے گر رہی ہیں اور آگ کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق حادثے میں جان گنوانے والے 7 افراد میں سے 2 کے اہل خانہ نے ان کے قرنیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اہل خانہ کے اس فیصلے سے متوفیوں کے قرنیے ضرورت مند مریضوں کے کام آسکیں گے اور کسی کی آنکھوں میں روشنی واپس لانے میں مدد مل سکتی ہے۔حادثے میں اپنے عزیزوں کو کھونے کے باوجود دونوں خاندانوں کا یہ فیصلہ معاشرے کے لیے ایک متاثر کن پیغام ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز انتظامیہ نے بھی اہل خانہ کے اس اقدام کی ستائش کی ہے۔

حادثے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے لوگوں کو دہلا دیا۔ بتایا گیا کہ ملبے میں پھنسے کچھ طلبہ نے اپنے موبائل فون کے ذریعے لوگوں کو کال کرکے مدد طلب کی۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حادثے نے دارالحکومت میں عمارتوں کی حفاظت، غیر قانونی PG اور انتظامی نگرانی کے نظام پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے بڑا حادثہ پیش آیا۔ اب تک 12 افراد کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے، جبکہ 4 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

عمارت کے اچانک زمین بوس ہونے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی اور لوگ خوف کے مارے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

ابتدائی طور پر عمارت کے ساتھ واقع کینٹین میں دبے چار افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں مزید افراد کو ملبے سے نکالا گیا۔ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پولیس نے گرین کوریڈور بھی قائم کیا تاکہ ایمبولینسیں بغیر کسی رکاوٹ کے اسپتال تک پہنچ سکیں