Bharat Express DD Free Dish

defence statement

ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے پاکستان کو عالمی دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے نظریاتی اور سیاسی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اس کے ’’نظریاتی اور سیاسی سرپرستی‘‘ کو ختم کرنا ضروری ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری خود اندازہ لگا سکتی ہے کہ ایسے بیانات کتنی غیر ذمہ داری ظاہر کرتے ہیں اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول پر پہلے سے موجود شکوک کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

امریکی دورے کے دوران جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو وجود کا خطرہ لاحق ہوا تو وہ خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتا ہے، مزید یہ بھی کہا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کی کوشش کی تو پاکستان اسے ’’ہر قیمت پر‘‘ روکے گا۔  وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی ایٹمی بلیک میل کے آگے جھکنے والا نہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔