Bharat Express DD Free Dish

Court Hearing

جیکلین فرنانڈیز نے حال ہی میں عدالت میں درخواست دے کر کہا تھا کہ وہ اس کیس میں سرکاری گواہ بننا چاہتی ہیں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ای ڈی نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ان کی درخواست قبول کرنے کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔

دوسری جانب جواب دہندگان کے وکلا نے ای ڈی کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے ریمارکس اس کے فیصلے کا حصہ ہیں اور انہیں الگ سے حذف نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تمام دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ڈسچارج کا فیصلہ دیا۔

جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس سی بی آئی سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ درخواست کی سماعت جمعہ 19 دسمبر 2025 کودہلی ہائی کورٹ میں ہوگی۔

یہ مقدمہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے جڑا ہے جو شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ شرجیل امام کو پولیس نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر کے اس معاملے میں ’’مرکزی سازش کار‘‘ قرار دیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2 ستمبر کو عمر خالد سمیت آٹھ دیگر ملزمان — شرجیل امام، محمد سلیم خان، شفا الرحمان، عاطف خان، میران حیدر، شاداب احمد، عبدالخالد سیفی اور گلفشہ فاطمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ شرجیل امام اور گلفشہ فاطمہ بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

ممبر اسمبلی عباس انصاری کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں فارنزک رپورٹ کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں مذکورہ اشتعال انگیز آڈیو کلپ کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام فریقین کو جواب داخل کرنے کا موقع دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔