Bharat Express DD Free Dish

Building Collapse

انڈونیشیا میں ایک اسلامی اسکول کی عمارت کا گر جانا افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ درجنوں طالب علم ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ریسکیو ٹیمیں طالب علموں  جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ والدین کی دعائیں اور حکام کی کوششیں جاری ہیں، تاہم واقعے نے تعمیراتی نظام اور نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

علاقے کی تنگ گلیوں کے باعث امدادی کاموں میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ جائے حادثہ تک نہ تو ایمبولینس پہنچ پا رہی ہے، نہ ہی ریسکیو گاڑیاں۔ این ڈی آر ایف اہلکاروں کو ہاتھوں سے ہی ملبہ ہٹانا پڑ رہا ہے، جس کے باعث کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس وقت پولیس، فائر بریگیڈ اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ مقامی لوگ بھی ملبہ ہٹانے میں مدد کر رہے ہیں۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف اور دہلی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ فوری طور پر راحت اور بچاؤکا کام شروع کر دیا گیا۔ دہلی فائر ڈپارٹمنٹ کی ٹیم بھی موقع پر موجود ہے۔

اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع کے نوئیڈا میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ نوئیڈا کے بہلول پور گاؤں میں پیر کی شام ایک عمارت منہدم ہوگئی۔ ملبے تلے کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ عمارت کے قریب بنیاد کی کھدائی کی جا رہی تھی۔

اس واقعے کے بعد رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رہا اور اب کسی کے دبے ہونے کا امکان کم ہے۔ ڈویژنل کمشنر، ضلع مجسٹریٹ، میونسپل کمشنر اور ایم ایل اے رات بھر موقع پر موجود رہے۔

ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی حادثے کا نوٹس لیا۔ سی ایم یوگی کی ہدایت پر این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاموں میں تیزی لائیں اور زخمیوں کو مناسب علاج فراہم کریں۔

ایس پی بارہ بنکی دنیش کمار سنگھ نے کہا کہ "صبح تقریباً 3 بجے ہمیں بارہ بنکی میں ایک عمارت کے گرنے کی اطلاع ملی

  جب پولیس ٹیم وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ تقریباً 13 لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد فائر بریگیڈ کی تین ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

مالتیا ترکیہ کے ان 11 صوبوں میں شامل تھا جو 7.8 شدت کے زلزلے سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ 6 فروری کو آنے والے زلزلے نے جنوبی ترکیہ اور شمالی شام کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔