Bharat Express DD Free Dish

Building Collapse

 لکھنؤ کے مہانگرتھانہ علاقے میں زیرتعمیرشالیمارگیلنٹ ویسٹ عمارت میں ایک بڑا حادثہ اس وقت پیش آیا، جب لفٹ ٹوٹ گئی۔ لفٹ میں کام کرنے والے 4 مزدورتہہ خانے (بیسمنٹ) میں گرکرزخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

پمپری چنچواڑ کے میئر نے بتایا کہ شہر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کچرے کا بڑا حصہ دفتر کی عمارت پر گر گیا اور کنکریٹ کی چھت منہدم ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت دفتر کے تقریباً 16 ملازمین کھانا کھا رہے تھے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے اہلکار اور دیگر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

تراتلا میں زیر تعمیر گودام کا شیڈ گرنے کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے سپروائزر اور دو مزدور سپلائرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 20 زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک۔ تعمیراتی منصوبے میں بے ضابطگیوں کی بھی جانچ شروع کردی گئی ہے۔

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس اور محکمہ فائر بریگیڈ مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر عمارت کے ساتھ واقع کینٹین میں دبے چار افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں مزید افراد کو ملبے سے نکالا گیا۔ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پولیس نے گرین کوریڈور بھی قائم کیا تاکہ ایمبولینسیں بغیر کسی رکاوٹ کے اسپتال تک پہنچ سکیں

حادثے میں 40 سالہ روبی، 8 سالہ دلیپ اور 13 سالہ دیوی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کی اچانک موت سے اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی اور گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ واقعے کے بعد مقامی لوگ بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہو گئے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گیس کے لیک ہونے کے باعث شدید دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک عمارت کا حصہ گر گیا اور کم از کم 13 ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ رات 10 بجے کے قریب چھت اچانک گر گئی ،جس سے چیخ و پکار مچ گئی۔ پولیس کو اطلاع دینے کے بعد پڑوسیوں نے پتھر ہٹا کر خاندان کو بچانے کی کوشش کی،

انڈونیشیا میں ایک اسلامی اسکول کی عمارت کا گر جانا افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ درجنوں طالب علم ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ریسکیو ٹیمیں طالب علموں  جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ والدین کی دعائیں اور حکام کی کوششیں جاری ہیں، تاہم واقعے نے تعمیراتی نظام اور نگرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔