Bharat Express DD Free Dish

BRICS expansion

برکس تنظیم کا بڑھتا دائرہ مغربی ممالک کے اقتصادی غلبے اور پابندیاں عائد کرنے کی طاقت کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے، جس سے عالمی سیاست اور معیشت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر رجب طیب اردوغان کے موقف میں تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان نے ترکیہ کے دعوے کی مخالفت نہیں کی۔ دوسری جانب بھارت کے سخت موقف کی وجہ سے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ ’’اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعاون اور بات چیت سے کشمیر میں امن آئے گا تو اس سے جنوب میں امن آئے گا، ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔

آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت کی ساکھ دنیا میں صرف اس کی سفارتکاری کی وجہ سے بڑھی ہے۔ پی ایم مودی کی سفارت کاری کا لوہا روس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھی قبول کیا ہے، جب کہ چین اس محاذ پر مسلسل پیچھے ہے۔ چین کی شبیہ نہ صرف مغربی ممالک بلکہ وسط ایشیائی ممالک میں بھی خراب ہوئی ہے