Bharat Express DD Free Dish

BJP government

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔

مرکزی حکومت نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ لداخ تشدد معاملے میں سونم وانگچک کی گرفتاری کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کے دوران مرکز نے کہا کہ وانگچک کے بیانات اور سرگرمیاں ملک کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔

دہلی میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیس میں اضافے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سنجیدہ سماعت ہوئی، جہاں دہلی حکومت نے واضح کیا کہ دہلی ایجوکیشن ایکٹ 2025 کے تحت فیس کو ریگولیٹ کرنے والا قانون ابھی نافذ نہیں کیا جائے گا۔

کرناٹک حکومت نے ماہِ رمضان کے پیش نظر ریاست میں اردو میڈیم اسکولوں کے اوقات میں عارضی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ حکم کے مطابق رمضان کے دوران اردو میڈیم جونیئر پرائمری اور سیکنڈری پرائمری اسکولوں کا وقت صبح 8 بجے سے دوپہر 12:45 منٹ تک مقرر کیا گیا ہے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے پیر کے روز نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ریاست ہریانہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاحی اسکیموں، مستقبل کی ترجیحات اور موجودہ قومی و ریاستی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

وزیراعظم مودی نے عام بجٹ 2026-27 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ محض تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی سمت ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کی ترقی کو رفتار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تنقید کی اور اسے غریب مخالف بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل پیش نہیں کیا گیا۔