Bharat Express DD Free Dish

BJP Alliance

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان کمیشن سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا، کہا- عوام کا اعتماد برقرار رہنا ضروری۔

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) میں مبینہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے باعث بڑے پیمانے پر اراکینِ پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ 

رامگڑھ اسمبلی حلقے میں آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ راجپوت ووٹر ہیں۔ بی جے پی کے امیدوار اشوک کمار سنگھ خود راجپوت برادری سے تعلق رکھتے ہیں، وہیں آر جے ڈی کے اجیت سنگھ بھی راجپوت ہیں۔ یہی بات بی جے پی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کہ کہیں راجپوت ووٹروں کی تقسیم کی وجہ سے اشوک کمار سنگھ کا معاملہ بگڑ نہ جائے۔

سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اورنگ زیب پراپنے رخ کے بعد ہنگامہ آرائی کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے الفاظ کو توڑمروڑکردکھایا گیا ہے۔ اورنگ زیب کے بارے میں میں نے وہی کہا ہے، جو مؤرخین نے لکھا ہے۔

قابل ذکر بات  یہ ہے کہ  اگست 2022 میں جے ڈی یو نے ایک بار پھر بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑ دیا تھا۔ نتیش کمار نے اسے بی جے پی کی ’’سازش اور دباؤ کی سیاست‘‘ قرار دیا تھا۔

جون 2022 میں ایکناتھ شندے نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد منگیش چیوٹے کو چیف منسٹرریلیف فنڈ کا سربراہ مقررکیا تھا۔ اب دیویندر فڑنویس نے انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

مہاراشٹرمیں مہایوتی کی جیت میں بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ سب سے زیادہ شاندارہے۔ اس جیت پر دیویندر فڑنویس کا ردعمل آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہیں توسیف ہیں اورمودی ہیں توممکن ہے۔

مہاراشٹراسمبلی الیکشن میں مہایوتی الائنس اور اپوزیشن الائنس مہا وکاس اگھاڑی میں سیدھی ٹکرہے۔ مہاراشٹرمیں کل 288 اسمبلی سیٹیں ہیں۔

جھارکھنڈ میں دو مرحلوں میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 13 نومبر کو ہونی ہے۔ امیدوار 25 اکتوبر تک کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے ہیں اور کاغذات کی جانچ پڑتال 28 اکتوبر کو کی جائے گی۔ امیدوار 30 اکتوبر تک اپنے نام واپس لے سکتے ہیں۔