Bharat Express DD Free Dish

Bihar elections 2025

انتخابی حکمتِ عملی کے ماہر اور ”جن سوراج پارٹی“ کے بانی پرشانت کشور ایک نئی تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشور کا نام بہار اور مغربی بنگال، دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹوں میں درج پایا گیا ہے، جو قانوناً ممنوع ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے بعد لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بھی واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات کے بعد نتیش کمار ہی این ڈی اے کے وزیرِ اعلیٰ ہوں گے۔ چراغ نے کہا کہ ان کی پارٹی کے تمام اراکینِ اسمبلی نتیش کمار کے نام پر حمایت دیں گے اور این ڈی اے اس مرتبہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے موسم میں اس وقت بیہ پور اسمبلی سیٹ سیاسی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس سیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پچھلے 70 برسوں سے یہاں کوئی بھی پارٹی لگاتار تین بار جیت حاصل نہیں کر سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیہ پور کو ریاست کی سب سے خطرناک اور غیر یقینی سیٹ مانا جاتا ہے۔

تیجسوی یادو کے وعدے کے بارے میں تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ ”اعلانات تو سب کرتے ہیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد لالچ آہی جاتا ہے۔ عوام سے کیے وعدے پورے کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ اس لیے، اگر آپ عوام سے وعدے کرتے ہیں، تو آپ کو ان پر پورا اترنا چاہیے“۔

بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کی مجوزہ مشترکہ ریلی کو لے کر ضلع مظفرپور کے موتی پور اور گائے گھاٹ علاقوں میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ دونوں مقامات پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پروگرام پُرامن اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔

میری ملبین نے کہا کہ وزیر اعظم مودی بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے لیے سب سے بہترین لیڈر ہیں۔ وہ لوگوں کو جوڑنے اور ساتھ لانے والے لیڈر ہیں۔ وہ تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ سفارت کاری بہت اچھے طریقے سے کر رہے ہیں۔ بھارت کے مفاد میں جو بہتر ہے، وہ وزیر اعظم مودی کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو سیوان میں ایک انتخابی ریلی کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور اپوزیشن اتحاد پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لالو–رابڑی حکومت کے دور کو ”بہار کا سیاہ دور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیوان نے برسوں تک بدامنی، خوف اور قتل و غارت کا سامنا کیا۔

وزیرِاعظم نریندر مودی نے ’خاندانی سیاست‘ کو لے کر کہا کہ ”آر جے ڈی اور کانگریس صرف اپنی نسلوں کی سیاست بچانے میں لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے نوجوانوں سے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ جہاں آر جے ڈی ہوتی ہے، وہاں قانون و نظم کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ ان کے دور میں لوٹ، اغوا، تاوان اور قتل ایک صنعت بن گئے تھے“۔

دھوریا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے عوام نے کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کو مستقل ترجیح نہیں دی۔ دھوریا اسمبلی سیٹ 1951 میں قائم ہوئی تھی۔ اب تک یہاں 17 اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ کانگریس، سی پی آئی اور جے ڈی یو (سمتا پارٹی سمیت) نے 5-5 مرتبہ کامیابی حاصل کی، جب کہ 1969 میں ایک آزاد امیدوار نے جیت درج کی۔

وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کرپوری گرام سے این ڈی اے کی بہار اسمبلی انتخابات کی مہم کا باضابطہ آغاز کیا۔ یہ مقام مشہور سوشلسٹ رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ جن نائک کرپوری ٹھاکر کی جائے پیدائش ہے۔ مودی نے اس موقع پر کرپوری ٹھاکر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی سماجی انصاف، مساوات اور پسماندہ طبقات کے وقار کے لیے وقف تھی۔