Bharat Express DD Free Dish

Bihar Election

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعرات کو بہار اسمبلی انتخابات کے لیے اسٹار کمپینرز کی لسٹ جاری کر دی ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت 40 لیڈروں کو انتخابی مہم کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ جانئے اور کن کن لیڈروں کو یہ ذمہ داری ملی ہے؟

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے لوک گیتوں کی مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکر کو علی نگر سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ تاہم یہاں سے ان کا جیت پانا آسان نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کو یہاں پر کون کون سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر سبھی پارٹیاں اب اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں بھیج رہی ہیں۔ اسی درمیان جن سوراج پارٹی نے تاراپور اسمبلی حلقہ سے ڈاکٹر سنتوش سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نائب وزیر اعلی سمراٹ چودھری کو تارا پور سے میدان میں اتارا ہے۔

بھوجپوری فلموں کے سپر اسٹار اور گلوکار پون سنگھ نے ہفتہ کو واضح کیا کہ وہ بہار اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گے۔ ان کی امیدواری کے بارے میں کافی عرصے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن انہوں نے خود سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا، "ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بہار کے ہر گھر میں سرکاری نوکری ہو۔ ایسے خاندانوں کو ترجیح دی جائے گی جن کا کوئی رکن سرکاری ملازمت میں نہیں ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، ہم ایک مضبوط اور شفاف قانون بنائیں گے، جو 20 دنوں کے اندر تیار ہو جائے گا۔"

نیتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد کو مضبوط مانا جا رہا ہے۔ سروے میں 42 فیصد ووٹرز نے نیتیش کمار کو اپنا پسندیدہ وزیر اعلیٰ قرار دیا، جبکہ تیجسوی یادو کو صرف 15 فیصد حمایت ملی ہے۔

بہار میں انتخابی موسم کے اعلان کے ساتھ ساتھ بہار کی راجدھانی پٹنہ ایک بڑے میگا کانکلیو کا گواہ بن رہا ہے۔ بھارت ایکسپریس کا میگا کانکلیو ’’نئے بھارت کی بات، بہار کے ساتھ‘‘ آج صبح 10 بجے سے جاری ہے۔

بہار انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ انتخابات نئی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بھی 4-5 اکتوبر کو بہار کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے میں وہ انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

تیج پرتاپ یادو نے پارٹی کا پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا:ہم لوگ بہار کے مکمل ترقی کے لیے پوری طرح وقف اور تیار ہیں۔ ہمارا مقصد بہار میں مکمل تبدیلی لاکر ایک نئے نظام کا قیام کرنا ہے۔

بہار میں موجودہ حکومت کا مدت کار نومبر تک ہے، اس لیے توقع ہے کہ انتخابات کی شروعات نومبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتی ہے۔ پچھلی بار 2020 میں انتخابات تین مرحلوں میں ہوئے تھے: 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس بار بھی دو سے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کا امکان ہے۔