Bharat Express DD Free Dish

Bhojshala

 مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی ہے۔ مگر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ابھی برقرار رکھا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرے گا۔AIMPLB کا کہنا ہے کہ بھوج شالا کیس عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مسلم فریق کا کہنا ہے کہ انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ پر اعتراض درج کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا مؤقف سنے بغیر آگے کی کارروائی مناسب نہیں ہے۔

جین برادری کا دعویٰ ہے کہ 1875 میں بھوج شالہ میں کھدائی کے دوران جین یکشنی امبیکا کی مورتی برآمد ہوئی تھی۔ وہ مجسمہ فی الحال برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔

ہائی کورٹ نے بھوج شالہ تنازعہ کیس کی اگلی سماعت کے لیے پہلے ہی 29 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اے ایس آئی کی تازہ ترین درخواست پر بھی اس تاریخ کو سماعت کی جا سکتی ہے۔

مسلم کمیونٹی کے ایک سرکردہ رکن عبدالصمد کا کہنا ہے کہ سروے پہلے ہی کرایا جا چکا ہے اس لیے اسے دوبارہ کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عبدالصمد نے بینکوئٹ ہال میں چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔ عبدالصمد کا کہنا ہے کہ چونکہ میری طبیعت ناساز ہے اس لیے سروے روکا جا سکتا تھا۔