Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Khamenei

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت اور عوام جنازے میں شرکت کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم رہنما کو عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔

بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتیوں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا۔ 7 جولائی کو قُم میں خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ 9 جولائی کو ان کے آبائی اور مقدس شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگا۔

ایرانی سفارتی مشنز نے دنیا بھر میں اسی نوعیت کے تعزیتی انتظامات کیے ہیں، جس سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر عالمی توجہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اجتماعی عزم کے پیغام کو اجاگر کیا گیا ہے۔