Bharat Express DD Free Dish

aviation safety

پائلٹس کے نام ایئر انڈیا کے خط کے مطابق یہ اسکریننگ پروگرام 13 اگست سے نافذ ہو گیا ہے اور ایئر انڈیا گروپ کے تمام پائلٹس اس کے دائرے میں ہوں گے۔ ایئر لائن نے کہا ہے کہ برسوں سے ایئر انڈیا نے اپنے پائلٹس اور ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مہارت اور حفاظت کے عزم کی بنیاد پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ایسے میں مسافروں کا اعتماد برقرار رکھنا کمپنی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اے اے آئی بی کی موجودہ رپورٹ صرف ابتدائی نتائج پر مبنی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی بھی قسم کے قیاس آرائی پر مبنی نتیجے سے گریز کیا جائے۔

ایئرلائن نے واضح کیا کہ ڈی جی سی اے کی جانب سے جاری کردہ اس وارننگ کے ساتھ کمپنی پر نہ کوئی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، نہ کوئی پابندی لگائی گئی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری تعزیری کارروائی کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس وارننگ کا اس کی مالی حالت، کاروباری سرگرمیوں یا آپریشنز پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 22 جون کو دہلی سے امرتسر جانے والی پرواز کے عملے نے گو اراؤنڈ طریقۂ کار کے دوران محدود وقت کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق متعلقہ ضابطہ ساز اداروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور کمپنی نے اندرونی سطح پر بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایئر انڈیا AI-171 12 جون 2025 کو سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔  اس المناک حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 229 مسافر، عملے کے 12 ارکان اور زمین پر موجود 19 افراد شامل تھے۔

خاص طور پر ایران اور عراق کی فضائی حدود سے بچنے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی کئی طویل فاصلے کی پروازوں کا وقت کافی بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اس ہفتے ایئر لائن کو چند پروازیں منسوخ بھی کرنا پڑیں۔ رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کی یہ تجویز فی الحال ڈی جی سی اے کے زیر غور ہے اور ریگولیٹر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔

ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو نے حادثے کی ابتدائی رپورٹ وزارت شہری ہوابازی کو منگل کے روز سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، AAIB امریکی ادارہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

سول ایوی ایشن سکریٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے نمائندگان کو پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ تاہم میٹنگ کا اصل مرکز توجہ ہوائی اڈوں پر عوامی بنیادی ڈھانچے اور خدمات کے لیے مسافروں سے لیے جانے والے مختلف چارجز، فیسیں، اور ٹیرف کے تعین اور ضابطہ کاری پر ہوگا، ساتھ ہی پروازوں کی سلامتی پر بھی بات ہوگی۔

کسی بھی ہوائی جہاز کا بلیک باکس نہ صرف حادثے کی وجوہات کا پتا لگانے میں مدد دیتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے میں بھی معاون ہوتا ہے۔