Bharat Express DD Free Dish

Abdullah Azam Khan

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی طبیعت ہفتہ کو اچانک بگڑ گئی، جس کے بعد جیل انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ ضابطے کے مطابق طبی معائنہ کرانے کے لیے ضلع اسپتال کے دو ڈاکٹر جیل پہنچے، لیکن اعظم خان نے جسمانی جانچ کرانے سے انکار کر دیا، جس کے باعث دونوں ڈاکٹر بغیر علاج کیے ہی واپس لوٹ گئے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سمیر جین نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کے بعد اب ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی عرضی کی سماعت سے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس عرضی کو سماعت کے لیے کسی دوسری بینچ کے سامنے پیش کیا جائے۔

عبداللہ اعظم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سندریش نے انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ٹرائل کورٹ پر بھروسہ کیجیے۔ معاملے کو ٹرائل کورٹ میں ہی طے ہونے دیجیے۔ اب جبکہ ٹرائل مکمل ہو چکا ہے، ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔‘‘

دو پین کارڈ کے معاملے میں بھی الہ آباد ہائی کورٹ نے عبداللہ اعظم خان کو جھٹکا دیا تھا۔ عبداللہ اعظم نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے رامپور ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں جاری ٹرائل کی تمام کارروائی منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ فریقین کو سننے کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا اور بعد میں جولائی میں ان کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

اعظم خان نے کہا کہ ہمارے دشمن بھی نادان ہیں، ہم سے دشمنی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ میں آپ کے ذریعے کہہ رہا ہوں، اگر میری قلم سے کسی کو نقصان پہنچا ہو تو بتائیں۔

رام پور ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے منگل کے روز اعظم خان کے دوسرے بیٹے عبداللہ اعظم کو دشمن جائیداد ہتھیانے کے معاملے میں ضمانت دے دی تھی۔ سماج وادی پارٹی کے سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم گزشتہ 17 ماہ سے ہردوئی جیل میں بند تھے۔

سال 2022 میں اعظم خان، ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان اور دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے رام پور ضلع کے نگر پالیکا پریشد کے ذریعہ خریدی گئی سڑک صاف کرنے کی مشین چوری کر لی تھی۔ اس کے بعد یہ مشین رام پور میں واقع خان کی جوہر یونیورسٹی سے برآمد ہوئی تھی۔

الزام ہے کہ 19 جولائی 2006 کو اعظم خان کے حکم پر انتظامی اہلکاروں نے سنجانی نانکر میں واقع پاپڑ فیکٹری، سیلر اور فلور مل کو زبردستی مسمار کر دیاتھا۔ متاثرہ ذوالفقار خان کا الزام ہے کہ ایس پی لیڈر نے ان سے 5 لاکھ روپے چندہ مانگا تھا۔

الزام ہے کہ اعظم خان نے عبداللہ اعظم کے دو پین کارڈ بنائے اور انتخابات کے دوران ان کا استعمال کیا۔ یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پین کارڈ کے دو معاملوں میں جج کو دوبارہ گواہی دینے کے لیے بلانے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے عبداللہ اعظم اور اعظم خان دونوں پر جرمانہ عائد کیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی عبداللہ اعظم ہردوئی جیل میں دوبرتھ سرٹیفکیٹ سمیت کئی معاملوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں دوبرتھ سرٹیفکیٹ معاملے میں ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ نے 7 سال کی سزا مقررکی تھی۔ عدالت کے ذریعہ سزا سنائے جانے کے بعد رام پور جیل سے انہیں ہردوئی جیل میں شفٹ کردیا گیا تھا۔