Bharat Express DD Free Dish

2025 Champions Trophy

ہندوستان نے 2011 سے اب تک گروپ مرحلے کے 38 میچ کھیلے ہیں جن میں اسے صرف تین بار شکست ہوئی ہے اور ایک میچ ٹائی ہوا ہے۔ یہ تعداد باقی تمام ٹیموں کے لیے بہت بڑی ہے۔ ہندوستان کو آخری بار 2019 ون ڈے ورلڈ کپ میں میزبان انگلینڈ کے خلاف گروپ مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے سیمی فائنل میں ہندوستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 264 رنز بنائے۔ جواب میں ٹیم انڈیا نے 49ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر ہدف کا تعاقب کر لیا۔ ہندوستانی ٹیم اب فائنل میں پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے وراٹ کوہلی نے سب سے زیادہ 84 رنز بنائے۔ ہندوستانی ٹیم نے دبئی میں چوتھی فتح حاصل کی ہے۔

چیمپئنز ٹرافی کے گروپ بی میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جانے والا میچ بارش کے باعث منسوخ ہو گیا۔ راولپنڈی میں کھیلا جانے والا یہ میچ ایک بھی گیند کرائے بغیر منسوخ کر دیا گیا۔

محمد شامی نے بنگلہ دیش کے خلاف چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے جیکر علی کی صورت میں اپنی 200ویں ون ڈے وکٹ مکمل کی۔ وہ مچل اسٹارک کے بعد ون ڈے فارمیٹ میں تیز ترین 200 وکٹیں لینے والے دوسرے بولر بن گئے ہیں۔

آپ کو  بتا دیں کہ 11 فروری تمام ٹیموں کے لیے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے حتمی ا سکواڈ جمع کرانے کی آخری تاریخ ہوگی۔  رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر بی سی سی آئی بمراہ کی فٹنس کا انتظار کرے تو حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔

راولپنڈی ایکسپریس نے کہا کہ اگر افغانستان کی ٹیم اس ایونٹ کے دوران  پوری ایمانداری  دکھاتی ہے تو وہ سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے، میرے خیال میں پاکستان،  ہندوستان  اور افغانستان 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن اسد شفیق نے بتایا کہ ’صائم ایوب کو ٹخنے کی انجری کی وجہ سے سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’ہم صائم ایوب کی جلد صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔

سوشل میڈیا پر شائقین کا خیال ہے کہ کرون نائر کو چیمپئنز ٹرافی کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے تھا لیکن بی سی سی آئی کے سلیکٹرز نے انہیں نظر انداز کر دیا۔

دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ چمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ ماڈل بہترین آپشن ہی  ہے۔

اگر ٹیم انڈیا ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان نہیں جاتی ہے تو اس کے لیے صرف دو آپشن رہ گئے ہیں۔ اس کا بہترین آپشن ہائبرڈ ماڈل ہو سکتا ہے۔ ٹیم انڈیا کو اپنے میچ نیوٹرل مقامات پر کھیلنے چاہئے اور باقی میچ صرف پاکستان میں ہونے چاہئے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اسے قبول نہیں کرتاہے تو اس کے پاس صرف ایک آپشن رہ جاتا ہے۔