Sajjan Kumar Death News: کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار کا انتقال، 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں تہاڑجیل میں کاٹ رہے تھے عمرقید کی سزا
سجن کمارگزشتہ 7 برس سے دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں صفدرجنگ اسپتال لایا گیا، لیکن اس وقت تک ان کی موت ہوچکی تھی۔ اپریل 2026 میں سجن کمارنے اپنی بیمار اہلیہ سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔
Hardeep Singh Puri recalled the 1984 anti sikh riots: ہردیپ سنگھ پوری نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کو یاد کیا— کہا آج بھی وہ لمحے یاد آتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں
ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ آج بھی جب میں 1984 کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو لرز اٹھتا ہوں، جب بے سہارا اور معصوم سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کا بے دردی سے قتلِ عام کیا گیا تھا۔
Hardeep Singh Puri remembers anti-Sikh riots of 1984: ہردیپ سنگھ پوری نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کو کیا یاد، کہا- آج بھی کانپ اٹھتا ہوں
ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ میں آج بھی 1984 کے اُن دنوں کو یاد کرکے کانپ جاتا ہوں، جب بے بس اور معصوم سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کو بلا سوچے سمجھے قتل کیا گیا۔ اُن کی جائیدادوں اور عبادت گاہوں کو کانگریس کے لیڈران اور اُن کے حامیوں کی قیادت میں ہجوم نے لوٹ لیا۔ یہ سب اندرا گاندھی کے سفاکانہ قتل کے ‘بدلے’ کے نام پر کیا گیا تھا۔
1984 Anti-Sikh Riots:ایل جی نے سکھ فسادات کے 47 متاثرین کو دیے تقرری خط، کہا – یہ باوقار اور خوشحال زندگی کی ہے علامت
کچھ دن پہلے، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے تلک وہار علاقے میں رہنے والے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے 47 متاثرین کو تقرری خط تقسیم کیے تھے۔
1984 anti-Sikh riots: سجن کمار کے خلاف 1984 کے سکھ مخالف فسادات کیس میں عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا
عدالت نے شکایت کنندہ کی وکیل کامنا ووہرا کو دو دن کے اندر تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سجن کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل انیل شرما نے کہا کہ سجن کمار کا نام لینے میں 16 سال کی تاخیر ہوئی ہے۔
1984 Anti-Sikh Riots: عدالت نے کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر کے خلاف طے کئے الزامات
یکم نومبر 1984 کو آزاد مارکیٹ میں واقع گرودوارہ پل بنگش کو ایک ہجوم نے آگ لگا دی اور سردار ٹھاکر سنگھ، بادل سنگھ اور گروچرن سنگھ نامی تین افراد کو جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے ایک دن بعد پیش آیا۔
Anti-Sikh Riots Case: راؤس ایونیو کورٹ اس دن کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر پر سنائے گا اپنا فیصلہ، 1984 سکھ مخالف فسادات میں ملوث ہونے کا الزام
سی بی آئی نے ٹائٹلر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 147 (فساد)، دفعہ 148، 149، 153 اے، 188، 109 (جرائم کے لیے اکسانا) اس کے ساتھ ساتھ تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل)، 295 اور 436 کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے۔
Rouse Avenue Court: راؤز ایونیو کورٹ سکھ مخالف فسادات سے متعلق ایک کیس میں 16 اگست کو سنائے گا اپنا فیصلہ ، کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر ہیں ملزم
ایک گواہ نے الزام لگایا تھا کہ کانگریس لیڈر جگدیش ٹائٹلر یکم نومبر 1984 کو گوردوارہ پل بنگش کے سامنے سفید ایمبیسیڈر کار سے اترے اور ہجوم کو سکھوں کو مارنے پر اکسایا۔




