Urdu Conclave 2026

Australian Open: کارلوس الکاریز آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچے، الیگزینڈر زویریو کو شکست دے کر توڑے کئی تاریخی ریکارڈ

پانچ گھنٹے 27 منٹ تک جاری رہنے والے سنسنی خیز سیمی فائنل میں شاندار جیت، 22 سال کی عمر میں چاروں گرینڈ سلام کے فائنل میں پہنچنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔ الیگزینڈر زویریو کے لیے یہ شکست انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے طویل میچ کھیلا اور فائنل میں پہنچنے سے صرف ایک قدم دور رہ گئے۔ شاندار کھیل کے باوجود قسمت نے اس بار ان کا ساتھ نہیں دیا۔

نئی دہلی: اسپین کے نوجوان ٹینس اسٹار کارلوس الکاریز نے جمعہ کے روز آسٹریلین اوپن 2026 کے سیمی فائنل میں جرمنی کے الیگزینڈر زویریو کو ایک طویل، سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں شکست دے کر فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ پانچ گھنٹے 27 منٹ تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ جدید ٹینس کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ الکاریز نے یہ مقابلہ 6-4، 7-6، 6-7، 7-6، 7-5 کے اسکور سے جیتا۔ اس جیت کے ساتھ ہی وہ چاروں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے فائنل میں پہنچنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 1993 میں جم کیوریر کے نام تھا۔

تاریخی کامیابی اور نیا ریکارڈ

محض 22 سال کی عمر میں الکاریز نے ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا۔ وہ پہلے ہی فرینچ اوپن، یوایس اوپن اور ومبلڈن کے فائنل کھیل چکے ہیں اور اب آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچ کر انہوں نے چاروں گرینڈ سلام کے فائنل میں رسائی حاصل کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا ایک اور شاندار ریکارڈ برقرار رکھا، جس کے مطابق جب بھی انہوں نے کسی میچ کے ابتدائی دو سیٹ جیتے، وہ کبھی میچ نہیں ہارے۔ یہ ان کی ذہنی مضبوطی، فوکس اور جیت کے جذبے کی واضح علامت ہے۔

جسمانی تکلیف کے باوجود شاندار کارکردگی

میچ کے آغاز میں الکاریز مکمل طور پر حاوی نظر آئے اور پہلے دو سیٹ جیت کر مضبوط برتری حاصل کر لی۔ تاہم اس کے بعد زویریو نے شاندار واپسی کی اور مقابلے کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا۔ تیسرے سیٹ کے دوران الکاریز کو پٹھوں میں کھچاؤ (Cramp) کی شکایت ہونے لگی، جس سے ان کی جسمانی حالت کمزور پڑ گئی۔ اس موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میچ ان کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ لیکن اسپین کے نوجوان اسٹار نے حوصلہ، عزم اور غیر معمولی ذہنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن پانچویں سیٹ میں شاندار کھیل پیش کیا اور دباؤ میں بہترین شاٹس لگا کر کامیابی اپنے نام کر لی۔

میچ کے بعد الکاریز کا ردعمل

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کارلوس الکاریز نے کہا: ’’میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، خود پر یقین رکھنا بہت ضروری ہے۔ تیسرے سیٹ کے دوران میں جسمانی طور پر شدید جدوجہد کر رہا تھا۔ یہ میرے مختصر کیریئر کے سب سے مشکل میچوں میں سے ایک تھا، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ مجھے اپنا صد فیصد اس میچ میں جھونکنا تھا اور آخر تک لڑنا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی نے انہیں فائنل کے لیے مزید پرعزم بنا دیا ہے۔ الیگزینڈر زویریو کے لیے یہ شکست انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے طویل میچ کھیلا اور فائنل میں پہنچنے سے صرف ایک قدم دور رہ گئے۔ شاندار کھیل کے باوجود قسمت نے اس بار ان کا ساتھ نہیں دیا۔

ساتواں گرینڈ سلام خطاب جیتنے کی کوشش

کارلوس الکاریز اب اپنے کریئر کا ساتواں گرینڈ سلام خطاب جیتنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ٹینس ماہرین کا ماننا ہے کہ جس طرح کی فارم اور ذہنی مضبوطی الکاریز نے سیمی فائنل میں دکھائی ہے، وہ فائنل میں بھی فیورٹ کھلاڑی کے طور پر اتریں گے۔ کارلوس الکاریز کی یہ شاندار جیت نہ صرف ان کے غیر معمولی ٹیلنٹ کی عکاس ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ مستقبل میں ٹینس کی دنیا پر طویل عرصے تک راج کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب پوری دنیا کی نظریں آسٹریلین اوپن 2026 کے فائنل پر جمی ہیں، جہاں الکاریز ایک اور تاریخ رقم کرنے کے لیے کورٹ میں اتریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read