بھارت کی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے نوی ممبئی میں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کی تاریخی جیت محض ایک کھیل کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھی کہ منظم جسمانی تربیت، اجتماعی نظم و ضبط اور مقابلے کا مستقل تجربہ کس طرح قوم کی سطح پر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ شیفالی ورما کی جارحانہ بلے بازی، دیپتی شرما کی آل راؤنڈ کارکردگی اور ہرمن پریت کور کی پُراعتماد قیادت نے اس کامیابی کو جذبے اور ٹیم ورک کی علامت بنا دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت نے اس فتح کو بجا طور پر بھارتی کھیل اور معاشرے کے لیے سنگ میل قرار دیا۔
خواتین کرکٹ میں نئے دور کا آغاز
یہ کامیابی ایسے وقت میں آئی ہے جب بھارت میں خواتین کرکٹ کو بے مثال ادارہ جاتی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں کھیلوں میں صنفی مساوات کو فعال طور پر فروغ دیا گیا، جبکہ بی سی سی آئی نے اس وقت کے سکریٹری اور موجودہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ کی نگرانی میں خواتین اور مرد کھلاڑیوں کے میچ فیس کو برابر کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ اس اقدام نے نہ صرف مالی فرق کو ختم کیا بلکہ خواتین کرکٹرز کی عزت اور مقام کو اس سطح تک بلند کیا جس کی وہ حقدار تھیں۔ یہی ماحول نوجوان لڑکیوں کو کرکٹ میں کیریئر بنانے کی ہمت دے رہا ہے۔
کھیل اور تعلیم کا تعلق
کھیلوں میں مہارت اتفاقیہ نہیں ہوتی۔ اس کے لیے برسوں کی باقاعدہ مشق، ذہنی تربیت اور ادارہ جاتی مدد درکار ہوتی ہے۔ یہی تربیت اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کھیل کو تعلیم کے لازمی حصے کے طور پر دیکھا جائے۔ قدیم گروکل نظام میں درس و تدریس جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کا مجموعہ تھی۔ مختلف قسم کے کھیلوں اور یوگ کا مقصد صرف جسمانی طاقت نہیں تھا بلکہ مضبوط کردار کی تشکیل تھا۔ آج جدید تحقیق بھی یہی ثابت کرتی ہے کہ جسمانی سرگرمی ذہنی یکسوئی، جذباتی توازن اور معاشرتی مہارتوں میں نمایاں بہتری لاتی ہے۔
ریاستیں کھیل کو نصاب کا حصہ بنا رہی ہیں
کچھ ریاستوں نے اس راستے پر عمل شروع بھی کر دیا ہے۔ آسام میں فٹبال کو بطور انتخابی مضمون شامل کرنے کا فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ کھیل کو محض ایک ثانوی سرگرمی نہیں بلکہ تعلیم اور شہری تربیت کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ باقاعدہ کھیل نہ صرف صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ بچوں میں تعاون، قیادت اور برداشت جیسی سماجی صلاحیتیں بھی پیدا کرتا ہے، جن کا اثر زندگی کے ہر میدان پر پڑتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی اور کھیل
قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) جسمانی تعلیم، کھیل اور یوگا کو ہمہ جہتی تربیت کا لازمی حصہ قرار دیتی ہے۔ اس کے بعد قومی کھیل پالیسی 2025 (کھیلو بھارت نیتی) نے اسکولوں، کالجوں اور اکیڈمیوں کے درمیان باقاعدہ ٹیلنٹ راستے بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ خواتین کھیلوں کے فروغ اور پیرا اسپورٹس سہولیات میں سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیلوں کو صرف تفریح نہیں بلکہ قومی صحت، شناخت اور ترقی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ شیتل دیوی کی مثال یاد رکھنے کے قابل ہے، جنہوں نے بغیر بازوؤں کے عالمی سطح پر تیر اندازی میں میڈل جیت کر خود کو ثابت کیا۔ یہ کامیابی اس نظام کی علامت ہے جو اب ملک کے ہر کونے سے صلاحیت کو سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کھیل کو لازمی تعلیم کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول سطح پر کھیل کو لازمی کیا جائے۔ کھیل صرف صحت نہیں بلکہ نظم، مقصدیت اور ٹیم ورک سکھاتا ہے۔ انفراسٹرکچر، کوچنگ اور تربیت میں سرمایہ کاری کو اسکول اور کالج کی سطح سے مربوط کرنا ہوگا۔ کھیلوں کی جگہیں بچیوں، پسماندہ طبقات اور معذور افراد کے لیے بھی یکساں طور پر قابل رسائی ہونی چاہئیں۔ ’’پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب، کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب‘‘ کا تصور اب ماضی کا قصہ ہونا چاہیے۔ نئے بھارت میں کھیل تعلیمی نظام کا مرکزی ستون ہے۔
کھیلوں کو تعلیم اور تربیت کی بنیاد بنایا جائے
خواتین کی ورلڈ کپ جیت ایک جشن بھی ہے اور ایک پیغام بھی۔ یہ پیغام ہے کہ قومی تعمیر صرف معیشت یا ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ صحت مند، بااعتماد اور مضبوط شہریوں سے ہوتی ہے۔ بھارت کے پاس اتنی آبادی اور قوت ہے کہ وہ دنیا کی عظیم کھیلوں کی طاقت بن سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ کھیلوں کو تعلیم اور تربیت کی بنیاد بنا دیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



