مدھیہ پردیش کے ٹرانسپورٹ تاجر راجہ رگھوونشی کے قتل کیس میں میگھالیہ پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے تین حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کونگکل سنگما نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس معاملے کی جانکاری دی۔ راجہ کی بیوی سونم کے بارے میں بھی چونکا دینے والی معلومات سامنے آئیں۔ سونم اتر پردیش کے غازی پور میں ملی۔ دونوں شادی کے بعد ہنی مون کے لیے شیلانگ پہنچے تھے۔
میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کونگکل سنگما نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ انہوں نے پیر کو انسٹاگرام کے ذریعے بتایا، “گزشتہ 7 دنوں میں میگھالیہ پولیس نے راجہ قتل کیس میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مدھیہ پردیش سے 3 حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا ہے، ایک خاتون نے خودسپردگی کی ہے اور دوسرے حملہ آور کو پکڑنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ میگھالیہ پولیس کو مبارک ہو!”
یوپی کے غازی پور میں سونم نے سرینڈر کیا
سونم اور راجہ رگھوونشی کی شادی اس سال 11 مئی کو ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ دونوں گوہاٹی اور پھر شیلانگ گھومنے کے لیے گئے تھے۔ دونوں یہاں پہنچنے کے 48 گھنٹے بعد غائب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد راجہ رگھوونشی کی لاش ملی اور سونم غائب ہوگئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب سونم نے اتر پردیش کے غازی پور میںسرینڈر کردیاہے۔ نند گنج تھانے کی پولیس اسے اسپتال لے گئی اور ابتدائی علاج کروایا۔
راجہ اور سونم کی گمشدگی کی خبر سنتے ہی گھر والے شیلانگ پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد 28 مئی کو ایک ہوٹل کے قریب جنگل میں دو بیگ ملے تھے، جس میں سونم اور راجہ کے اہل خانہ نے پہچان لیا تھا۔ 2 جون کو سرچ آپریشن کے دوران ایک لاش ملی تھی۔ لاش کی حالت خراب تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اہل خانہ نے راجہ رگھوونشی کی پہچان کرلی تھی۔ اس معاملے کو لے کر ملک بھر میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کے بعد دونوں کے اہل خانہ اور مدھیہ پردیش کے سی ایم موہن یادو نے بھی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


