Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اپنے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ غازی پور کے نئے میڈیکل کالج کا نام رشی وشوامتر کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مٹھوں میں پودے لگائے اور آشیرواد حاصل کیا۔

سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس علی گڑھ نیرج کمار جداؤں نے بتایا: ’’ابھیشیک کے خاندان کا دعویٰ تھا کہ پوجا نے انہیں طویل عرصے تک جنسی طور پر ہراساں کیا اور جب اس نے تمام تعلقات ختم کیے تو پوجا نے قتل کا منصوبہ بنایا۔‘‘ 

وزیر اعظم نریندر مودی کی سودیشی مصنوعات استعمال کرنے کی اپیل سے کمہاروں کی دیوالی چمک اُٹھے گی، مٹی کے دیوں کی مانگ میں اضافہ۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ملک میں کئی فلاحی اور فائدہ مند اسکیمیں چلا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آج وزیر اعظم نے’’پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا‘‘ کا آغاز کیا ہے۔

ڈاکٹر شرما نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی سماج میں عدم مساوات ختم کرنے اور نچلے طبقے کو خوشحال بنانے کے لیے متعدد اسکیمیں شروع کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پردھان منتری آواس یوجنا، آیوشمان بھارت کے تحت 5 لاکھ روپے تک مفت علاج، کسان سمان ندھی کے ذریعے مالی مدد، گھر گھر بیت الخلا اور مفت ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی جیسے اقدامات نے کسانوں کی زندگی آسان بنائی ہے۔

جن شکتی جنتا دل کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو نے ہفتے کے روز پٹنہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی مسلسل عوام کے درمیان سرگرم ہے اور عوام کی جانب سے انہیں زبردست حمایت مل رہی ہے۔

جوتش وگیان سمیتی کے زیرِ اہتمام وارانسی میں منعقدہ قومی جوتش سمّیلن میں آچاریہ پون ترپاٹھی کو خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔

عظیم اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم سے متعلق جاری کشیدگی کے سبب وِکاس شیل انسان پارٹی (VIP)کے سربراہ مکیش سہنی ناراض ہو کر منظرِ عام سے غائب ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا فون نوٹ ریچیبل آ رہا ہے، جس سے قیاس لگایا جا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر رابطے سے باہر ہو گئے ہیں۔

ہریانہ حکومت نے آئی پی ایس خودکشی معاملے میں روہتک کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نریندربجارنیا کا تبادلہ کردیا ہے۔ ان کی جگہ آئی پی ایس افسرسریندرسنگھ بھوریا کوروہت کا نیا ایس پی مقررکیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔