Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

لکھنؤ کے سروجنی نگر میں ’دی گرین شفٹ‘ پروگرام کے تحت ’نیٹ زیرو انڈسٹری‘ پہل کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام میں اتر پردیش کے وزیرخزانہ سریش کمار کھنہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ مقامی رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اس اہم اور پُرامید مشن کی قیادت کی۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ اقلیتی طبقہ اپوزیشن کے لیے محض ووٹ بینک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے وہ ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی طرح کی خوشامد یا تفرقہ بازی پر یقین نہیں رکھتی بلکہ سب کے ساتھ انصاف اور مساوات کے اصول پر عمل پیرا ہے، جو ملک کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کا اثر اب بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے زرعی شعبے پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ خلیجی ممالک کو تربوز کی برآمدات رک جانے سے کسانوں اور تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یہ کانفرنس انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جہاں مختلف موضوعات پر علمی نشستیں اور مکالمے ہوئے۔ مقررین نے موجودہ دور میں تاریخ کی غلط تشریحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ماضی کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے سماج میں غلط فہمیاں اور نفرت کو فروغ مل رہا ہے۔

جے پور کی سڑکوں پر چلتی بائیک پر ایک نوجوان لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم مرارام مینا کے خلاف پہلے سے ہی کئی سنگین مقدمات درج ہیں، جن میں مارپیٹ، ہنگامہ آرائی اور آرمز ایکٹ جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

بہارحکومت میں وزیر وجے کمار چودھری نے کہا کہ وزیراعلیٰ وہی ہوگا، جسے این ڈی اے کا لیڈر منتخب کیا جائے گا۔ بی جے پی کا اس میں اہم  رول ہوگا۔

وزیر اعظم مودی پیر کے روز وگیان بھون میں ”ناری شکتی وندن سمیلن“ سے خطاب کریں گے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں وہ ملک بھر کی خواتین سے براہ راست مکالمہ بھی کریں گے اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

رمیش چندر نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے بدنامی اور قانونی کارروائی کے خوف سے 5 ہزار روپے ادا کیے، مگر اس کے بعد ملزمان کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ مختلف اوقات میں 5 لاکھ، 7 لاکھ اور دیگر اقساط کی شکل میں کل 33 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ اس دوران ملزمان نے ان سے کئی حلف ناموں پر بھی زبردستی دستخط کروا لیے، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔

چندر بوس اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ پر 2016 میں بھوانی پور اسمبلی سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ چکے ہیں، تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب انہوں نے اسی انتخابی میدان کے درمیان پارٹی تبدیل کر کے ٹی ایم سی کا دامن تھام لیا ہے، جس سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔