Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

فالٹا اسمبلی حلقے میں جہانگیر خان نے ری پولنگ سے دو دن قبل ہی انتخابی میدان چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا، اس کے باوجود انہیں 7783 ووٹ حاصل ہوئے اور وہ چوتھے مقام پر رہے۔ وہیں شمبھو ناتھ کرمی کو 40 ہزار 645 ووٹ ملے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

یہ بل پوری ریاست میں شادیوں اورطلاق کا رجسٹریشن لازمی بناتا ہے۔ جوڑوں کو شادی کے 60 دنوں کے اندر سب رجسٹرار کے سامنے ایک شادی میمورنڈم جمع کرنا ہوگا۔ مجوزہ قانون کا مقصد مذہب پرمبنی قوانین کویکساں ضابطے سے بدلنا ہے، جس سے تمام کمیونٹیزمیں صنفی انصاف، مساوات اورقانونی یکسانیت کو یقینی بنایا جائے۔

اے آئی اے ڈی ایم کے کے کئی اراکین اسمبلی باغی ہوئے تھے اوروجے کے حق میں ووٹ کیا تھا۔ ان میں سے تین اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ تین اراکین اسمبلی ضمنی الیکشن میں ٹی وی کے کے ٹکٹ پرالیکشن لڑسکتے ہیں۔

بہار کے اورنگ آباد میں وت ساوتری کے دن لاپتہ ہونے والے ایک بچے کی تلاش کے دوران پولیس نے شیوا پانڈے نامی ایک بچے کو بھی برآمد کیا جو چار سال قبل ایک مندر سے چوری ہو گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزمہ خاتون نے انکشاف کیا کہ اس نے بچے کو مندر سے اس لیے اغوا کیا تھا کیونکہ وہ اپنے بچے پیدا کرنے سے قاصر تھی اور وہ اسے اپنا بیٹا سمجھ کر پالتی رہی تھی۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انو مینا خودکشی معاملے نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ واقعے کے تقریباً 40 دن بعد پولیس نے آخرکار شوہر اور سسرال والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزمان کے فرار ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔

جولائی 2024 میں، آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدرالکا لانبا کی قیادت میں، جنترمنتر پراحتجاج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سزا پر 5 جون کوبحث ہوگی۔

شدید آلودگی اور انتظامی لاپروائی کے باعث مشرقی دہلی کی مشہور سنجے جھیل ان دنوں مچھلیوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جھیل میں ہزاروں کی تعداد میں مردہ مچھلیاں تیرتی اور کناروں پر جمع نظر آ رہی ہیں،

پیاز کو منڈی تک پہنچانے، مزدوروں کی اجرت اور دیگر اخراجات ملا کر انہیں 1383 روپے خرچ کرنے پڑے۔ جب فروخت سے حاصل ہونے والے 301 روپے اس خرچ میں سے کم کیے گئے تو کسان کو اپنی جیب سے مزید 1082 روپے ادا کرنے پڑے۔