فائل فوٹو: ڈی ڈبلیو
مہاراشٹرا پولیس نے جمعہ کے روز بتایا ہے کہ انھوں نے 60 سے زیادہ ایسے ہندوستانی شہریوں کو بچایا جو میانمار میں سائبر گھوٹالوں والے کال سینٹرز میں کام کرنے پر مجبور تھے۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک غیر ملکی سمیت پانچ ایجنٹوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور تین فرسٹ انفارمیشن رپورٹس درج کی گئی ہیں۔
پولیس نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار ایجنٹوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو تھائی لینڈ اور دیگر مشرقی ایشیائی ممالک میں اعلیٰ معاوضے والی نوکریوں کے وعدوں کے ذریعے ورغلایا تھا۔ انھوں نے متاثرین کے لیے پاسپورٹ اور پروازوں کا انتظام کیا اور انھیں سیاحتی ویزوں پر تھائی لینڈ بھیجا۔ وہاں پہنچنے پر انھیں تھائی لینڈ اور میانمار کی سرحد پر لے جایا گیا۔
نوکریوں کا لاچ دے کر لوگوں کو پھنساتے ہیں مجرم
مہاراشٹر سائبر پولیس کے ایک اہلکار نے مڈ ڈے کو بتایا کہ ’’انہیں چھوٹی کشتیوں میں ایک دریا عبور کر کے میانمار جانے کے لیے مجبور کیا گیا اور پھر انھیں مسلح گروپوں کے زیر کنٹرول سخت حفاظتی کمپاؤنڈز میں بند کر دیا گیا۔‘‘ ان کمپاؤنڈز کے اندر انھیں ایک سال کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے ساتھ سائبر فراڈ میں ملوث ہونے پر مجبور کیا گیا۔
گرفتار شدگان کی شناخت منیش گرے عرف میڈی، تیسن عرف آدتیہ روی چندرن، روپنارائن رام دھر گپتا، جینسی رانی ڈی اور تلانیتی نولاکسی کے طور پر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ رپورٹس کے مطابق خاص طور پر کمبوڈیا، میانمار اور لاؤس سے سائبر جرائم کے مراکز چلائے جاتے ہیں، جہاں ہزاروں ایسے افراد کا عملہ کام کرتا ہے، جنھیں جعلی نوکریوں کا لالچ دے کر پھنسایا جاتا ہے اور پھر انھیں زبردستی کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان سینٹرز پر سینکڑوں ہندوستانی شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں، جنھیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


