Bharat Express DD Free Dish

  India tops global fast payments with UPI processing 18 billion transactions monthly:  یوپی آئی کی ماہانہ 18 بلین لین دین کی کارروائی کے ساتھ ہندوستان عالمی تیزی سے ادائیگیوں میں سرفہرست ہے

دنیا کی سب سے بڑی ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم کے طور پر یو پی آئی کا ابھرنا کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا۔ یہ سالوں کی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ایک نوٹ “بڑھتے ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگی: باہمی ربط کی اہمیت” کے مطابق، بھارت تیز رفتار ادائیگی کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔

اس انقلاب کی بنیاد یونائیٹڈ پیمنٹ انٹرفیس (UPI) ہے، جسے 2016 میں نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا نے متعارف کروایا تھا۔ یو پی آئی نے ملک میں لوگوں کے پیسے بھیجنے اور وصول کرنے کے طریقے کو یکسر بدل دیا ہے۔

یہ سسٹم آپ کے تمام بینک اکاؤنٹس کو ایک ہی موبائل ایپ میں جوڑ دیتا ہے۔ صرف چند ٹیپ کی مدد سے آپ فوراً پیسے ٹرانسفر کر سکتے ہیں، تاجروں کو ادائیگی کر سکتے ہیں یا دوستوں کو رقم بھیج سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی رفتار اور آسانی ہے۔

آج، بھارت میں یو پی آئی کے ذریعے ہر مہینے 18 ارب سے زائد لین دین کیے جا رہے ہیں۔ پریس انفارمیشن بیورو (PIB) نے اتوار کو اپنی “بیک گراؤنڈرز” سیریز میں کہا کہ “اس تبدیلی نے بھارت کو نقدی اور کارڈ پر مبنی ادائیگیوں سے ہٹا کر ڈیجیٹل-فرسٹ معیشت کی طرف گامزن کیا ہے۔” لاکھوں لوگ اور چھوٹے کاروبار اب محفوظ اور کم لاگت والے لین دین کے لیے یو پی آئی پر انحصار کرتے ہیں۔ ادائیگی کو فوری اور قابل رسائی بنا کر، یو پی آئی مالی شمولیت کا ایک طاقتور ذریعہ بن گیا ہے۔

آج یو پی آئی کا دائرہ کار غیر معمولی ہے
صرف جون کے مہینے میں اس کے ذریعے 24.03 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں ہوئیں، جو کہ 18.39 ارب لین دین پر محیط تھیں۔ گزشتہ سال اسی مہینے میں 13.88 ارب لین دین ہوئے تھے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف ایک سال میں تقریباً 32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

یو پی آئی سسٹم اب 491 ملین افراد اور 65 ملین تاجروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ یہ 675 بینکوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جوڑتا ہے، جس سے لوگ آسانی سے بغیر اس فکر کے ادائیگی کر سکتے ہیں کہ وہ کس بینک کا استعمال کر رہے ہیں۔

آج بھارت میں کیے جانے والے تمام ڈیجیٹل لین دین میں یو پی آئی کا حصہ 85 فیصد ہے۔ اس کا اثر قومی سرحدوں سے بھی آگے نکل چکا ہے، جو کہ دنیا بھر میں ہونے والے تقریباً 50 فیصد ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں کو سنبھال رہا ہے

پی آئی بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:”یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں، بلکہ اعتماد، سہولت اور رفتار کی علامت ہیں۔ ہر مہینے زیادہ سے زیادہ افراد اور کاروبار اپنی ادائیگیوں کے لیے یو پی آئی کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس کا بڑھتا ہوا استعمال اس بات کی واضح علامت ہے کہ بھارت تیزی سے کیش لیس معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔”

یہ کامیابی صرف ملک تک محدود نہیں رہی
یو پی آئی اپنی سرحدوں سے باہر بھی اپنی موجودگی درج کرا رہا ہے۔ یہ پہلے ہی سات ممالک میں موجود ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سنگاپور، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، فرانس اور ماریشس شامل ہیں۔ فرانس میں اس کا داخلہ ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ یورپ میں یو پی آئی کا پہلا قدم ہے۔ اس سے وہاں جانے والے یا مقیم بھارتی افراد کو غیر ملکی لین دین کی عام دقتوں کے بغیر آسانی سے ادائیگی کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

پی آئی بی کے بیک گراؤنڈر کے مطابق، بھارت برِکس (BRICS) گروپ، جس میں اب چھ نئے رکن ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں، میں یو پی آئی کو ایک معیار بنانے پر زور دے رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا:”اگر ایسا ہوتا ہے، تو اس سے رقوم کی ترسیل بہتر ہوگی، مالی شمولیت کو فروغ ملے گا اور بھارت کی امیج ایک عالمی ڈیجیٹل ادائیگی کی ٹیکنالوجی کے لیڈر کے طور پر مستحکم ہوگی۔”

دنیا کی سب سے بڑی ریئل ٹائم پیمنٹ سسٹم کے طور پر یو پی آئی کا ابھرنا کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا۔ یہ سالوں کی منصوبہ بندی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔

مالی شمولیت اس سمت میں پہلا بڑا قدم تھا
جن دھن یوجنا کے تحت لاکھوں لوگوں کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، جنہوں نے اس سے پہلے کبھی رسمی بینکنگ نظام کا استعمال نہیں کیا تھا۔ 9 جولائی تک 55.83 کروڑ سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس لوگوں کو حکومت کی سبسڈی تک براہ راست رسائی اور رقم بچانے کا ایک محفوظ ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read