مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی زرعی برآمدات پر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کا تقریباً ایک لاکھ ٹن باسمتی چاول اس وقت ملک کی مختلف بندرگاہوں پر پھنسا ہوا ہے۔ اس کی کل قیمت تقریباً 2,000 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف چاول کے برآمد کنندگان کی تشویش میں اضافہ کیا ہے ،بلکہ حکومت کے لیے ایک سنگین کاروباری چیلنج بھی کھڑا کر دیا ہے۔
کیوں پھنسا ہے چاول ؟
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع اور اب ایران اسرائیل محاذ آرائی نے پورے مشرق وسطیٰ میں تجارتی عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ خطے کی کئی بندرگاہوں پر سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں اور جہاز رانی کے راستے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سی شپنگ کمپنیوں نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر اپنا آپریشن روک دیا ہے یا راستے تبدیل کر دیے ہیں۔
ادائیگی رکی ہوئی ہے ، ترسیل بھی رکی ہوئی ہے
چاول کی کھیپ بندرگاہوں پر تیار ہیں، لیکن انہیں بھیجنا ممکن نہیں ہے۔ تجارتی ادائیگیاں بھی درمیان میں پھنسی ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً 2000 کروڑ روپے کی ادائیگیاں یا تو روک دی گئی ہیں یا ان کی تکمیل میں رکاوٹیں ہیں۔
برآمد کنندگان کو نقصان
باسمتی چاول کے زیادہ تر آرڈر ان ممالک سے آتے ہیں ،جہاں ہندوستان کی مضبوط مارکیٹ ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں نہ صرف سامان بھیجنا مشکل ہے، بلکہ پہلے سے بھیجے گئے آرڈرز کی رقم بھی بروقت موصول نہیں ہو رہی۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اگر جلد صورتحال بہتر نہ ہوئی تو انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
حکومت کی نظر
حکومت اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وزارت تجارت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ لیکن جب تک مغربی ایشیا میں کشیدگی ختم نہیں ہوتی، اس بحران کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا۔
باسمتی چاول بھارت کے لیے ایک بڑی برآمدی مصنوعات ہے، جس سے ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اس تجارت کو گہرے بحران میں ڈال دیا ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف باسمتی چاول بلکہ تیل، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر برآمدی اشیاء بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




