ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او)اور ہندوستانی بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ ملٹی انفلوئنس گراؤنڈ مائن (ایم آئی جی ایم) کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو ہندوستان کی زیر آب جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایم آئی جی ایم سسٹم، جو متعدد سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے جہازوں کا پتہ لگانے اور انہیں نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جلد ہی ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا جائے گا۔ ایک بار تعیناتی کے بعد، یہ دشمن کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کی ہندوستانی سمندری حدود میں دخل اندازی کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر کام کرے گا۔
زیر آب کان کا کامیاب تجربہ
یہ ٹیسٹ اہم دفاعی ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری کے ہندوستان کے حصول میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سمندری علاقوں کو زیر آب خطرات سے محفوظ بنانے اور بحریہ کی صلاحیت کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوگا۔ ڈی آر ڈی او نے اس ٹیسٹ کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے، جس میں پانی کے اندر دھماکہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ اس معاملے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی بیان دیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس کامیاب ٹیسٹ کے لیے ڈی آر ڈی او اور بحریہ کو مبارکباد دی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’یہ نظام ہندوستانی بحریہ کی زیر آب جنگی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گا‘‘۔
ایم آئی جی ایم سینسر سے لیس ہے
اس کے بارے میں بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ نے کہا، “ایم آئی جی ایم بہت سے سینسروں سے لیس ہے، جو سمندری بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آواز، مقناطیسی میدان، دباؤ وغیرہ جیسی چیزوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ وشاکھاپٹنم اور اپولو مائیکرو سسٹم لمیٹڈ اور بھارت ڈائنامکس اس کی پیداوار میں شراکت دار ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ جنگ کے دوران کئی سینٹرز انڈر واٹر سینٹرز کے لیے زیر زمین رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی، امریکی، جاپانی اور جرمن سمندری راستوں پر بارودی سرنگیں بچھاتے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


