Bharat Express DD Free Dish

Assam NRC: آسام حکومت نے این آر سی کے لیے درخواست نہ دینے والے آدھار کارڈ ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا کیا اعلان

ہیمنتا بسوا سرما نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی ان لوگوں کو آدھار کارڈ جاری کرنا بند کر دیا ہے، جنھوں نے این آر سی کے لیے درخواست نہیں دی۔

آسام کے ویزر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)

آسام حکومت نے اتوار کے روز ایسے آدھار کارڈ ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، جنھوں نے اپنے نام شہریوں کے قومی رجسٹر (NRC) میں شامل کرانے کے لیے درخواست نہیں دی۔ اتوار کو اپنی پنچایت انتخابی مہم کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے کہا ’’ہم اگلے دو سے چار دنوں میں ان لوگوں کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کریں گے، جو آدھار کارڈ رکھتے ہیں اور آسام میں رہ رہے ہیں، لیکن انھوں نے NRC کے لیے درخواست نہیں دی۔‘‘

غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور جلاوطنی کے لیے تیار کیا گیا ہے ایکشن پلان

ہیمنتا بسوا سرما نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی ان لوگوں کو آدھار کارڈ جاری کرنا بند کر دیا ہے، جنھوں نے این آر سی کے لیے درخواست نہیں دی۔ ’’تاہم ہمارے ذریعے یہ قدم اٹھانے سے پہلے بہت سے لوگوں نے آسام میں این آر سی کے لیے درخواست دیے بغیر ہی آدھار کارڈ حاصل کر لیے تھے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت نے پچھلے کچھ سالوں میں آسام میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کا پتہ لگانے اور ان کو نکالنے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کیا ہے۔

آسام کے چار اضلاع میں ممکنہ آبادی سے زیادہ آدھار کارڈ ہولڈرز ہیں: وزیر اعلیٰ آسام

پچھلے سال ستمبر میں ہیمنتا بسوا سرما نے دعویٰ کیا تھا کہ آسام کے چار اضلاع میں ان کی ممکنہ آبادی سے زیادہ آدھار کارڈ ہولڈر ہیں۔ ان چار اضلاع میں بارپیٹا، دھوبری، موری گاؤں اور ناگاؤں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ دھوبری ضلع بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی سرحد کا اشتراک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم نے پایا کہ بارپیٹا میں 103.74 فیصد لوگوں کو آدھار کارڈ جاری کیا گیا تھا، دھوبری میں 103.48 فیصد، موریگاؤں میں 101.74 فیصد اور ناگاؤں میں 100.68 فیصد لوگوں کو۔ یقینی طور پر مشتبہ تارکین وطن بھی آدھار کارڈ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read